.

کیمرون نے "داعشی" قیادت کو نشانہ بنانے کی ہدایت جاری کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے عراق اور شام میں سرگرم دہشت گرد گروپ دولت اسلامیہ ''داعش'' کی قیادت کو ہلاک کرنے کے لیے خصوصی احکامات جاری کیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی حکومت نے داعش کے خلاف کارروائی کے لیے اسپیشل فورسز کو احکامات جاری کیے ہیں جو داعشی قیادت کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں ہلاک کرنے کے ساتھ برطانیہ کو لاحق سیکیورٹی خطرات کا تدارک کرے گی۔

برطانوی سیکیورٹی ادارے کےایک مقرب ذریعے کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی اسپیشل فورسز کو شام اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر حملوں کے احکامات جاری ہوچکے ہیں۔ ان احکامات کے بعد برطانوی سیکیورٹی ادارے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے اور برطانوی شہریوں کو قتل کرنے والوں کے خلاف کارروائی شروع کریں گے۔

برطانوی وزیراعظم نے داعش کےخلاف کارروائی کے لیے احکامات پارلیمنٹ سے بالا بالا ہی جاری کیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کامیاب بنانے کے لیے برطانوی سیکیورٹی ادارے تمام تر انٹیلی جینس معلومات کےحصول کے بعد ہی کارروائی کریں گے۔

برطانوی انسداد دہشت گردی فورس کے تجزیہ نگار رابن اسیمکوکس کاکہنا ہے کہ اسپیشل فوج کی یونٹیں شام اور عراق میں کارروائی میں مصروف امریکی فورسز سے بھی معاونت حاصل کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ میرا گمان یہ ہے کہ برطانیہ داعش کی صف اول کی قیادت کو نشانہ بنانا چاہتا ہے تاہم یہ کام انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پرہی ممکن ہے۔ تنظیم کو کاری ضرب لگانے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ اس کی قیادت کو کچل دیا جائے۔ امریکا کی قیادت میں داعش کے خلاف جاری فضائی آپریشن زیادہ موثر ثابت نہیں ہوسکا ہے۔

خیال رہے کہ برطانوی حکومت نے داعش کے خلاف فوجی کارروائی کایہ فیصلہ دو ہفتے قبل تیونس میں دہشت گردی کے واقعے کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ تیونس میں دو ہفتے پیشتر ساحلی شہر سوسہ میں دہشت گردی کے حملے میں تیس برطانوی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

اس خونی واقعے کے بعد برطانوی حکومت کی جانب سے داعشی دہشت گردوں کا پیچھا کرنے کی سنجیدہ کوششیں شروع کی گئی تھیں۔ ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے داعش کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے فوج کو کارروائی کا حکم دینا بھی انہیں کوششوں کا حصہ ہے۔

برطانوی وزیردفاع مائیکل فالون کاکہنا ہے کہ ہمارے پاس شام میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے کافی ثبوت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم نے دہشت گردوں کے سربراہوں کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے بعض ارکان کو شام اور عراق میں فوجی کارروائی پرتحفظات ہیں، اسی وجہ سے یہ معاملہ رائے شماری کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ برطانوی پارلیمنٹ پچھلے سال عراق اور شام میں داعش کے خلاف فضائی حملوں کی منظوری دے چکی ہے۔ اس منظوری کے بعد برطانوی فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر 300 فضائی حملے بھی کیے ہیں۔