.

ایران جوہری معاہدے کی ڈیڈلائن میں تیسری بار توسیع

ایران کا امریکا پر مذاکرات میں نئے مطالبات پیش کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان جاری ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات میں کسی حتمی معاہدے کی تکمیل نہ ہونے کے باعث دو ہفتوں میں مسلسل تیسری بار ڈیڈ لائن میں مزید توسیع کردی گئی ہے۔

تہران نے اس سے پہلے الزام لگایا ہے کہ مغربی طاقتیں ایران کے ساتھ معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے اپنی شرائط میں مسلسل تبدیلیاں کررہے ہیں۔ دونوں فریقین کا کہنا ہے کہ بات چیت میں پیش رفت جاری ہے مگر برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے اس پیش رفت کو درد ناک حد تک سست قرار دیا اور وہ اور ان کے فرانسیسی ہم منصب لوران فابیوس جمعے کے روز ویانا سے واپس چلے گئے تاکہ ہفتے کی شب کو دوبارہ مذاکرات کے سیشن میں شرکت کے لئے واپس آسکیں۔

امریکی کانگریس کی جانب سے طے شدہ جمعے کی ڈیڈ لائن کے گزر جانے کے بعد امریکی اور یورپی یونین کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر عائد پابندیوں میں پیر کے روز تک مزید توسیع کررہے ہیں تاکہ حتمی معاہدے کی منظوری کے لئے مزید وقت فراہم کیا جاسکے۔

الزام تراشی

آسٹریا کے شہر ویانا میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان گذشتہ دو ہفتوں سے جاری مذاکرات اب تک نتیجہ خیز تو ثابت نہیں ہوسکے ہیں لیکن طرفین نے مذاکرات کی اس طوالت کے بعد ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے امریکا پر اپنے مطالبات تبدیل کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

جواد ظریف نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے جمعہ کو نشر کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ " دوسرا فریق اپنے موقف میں تبدیلی لارہا ہے اور چھے ممالک نے بعض ایشوز کے حوالے سے ایک دوسرے سے مختلف مؤقف اپنا رکھا ہے۔اس صورت حال نے کام کو مشکل بنا دیا ہے۔"

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے ویانا میں جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں خبردار کیا تھا کہ " امریکا ہمیشہ کے لیے انتظار نہیں کرے گا اور اگر مشکل فیصلے نہیں کیے جاتے تو وہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کے خاتمے کے لیے تیار ہیں۔" لیکن ایرانی وزیرخارجہ نے اس کے برعکس کہا ہے کہ وہ ابھی مذاکرات میں مزید بیٹھنے اور ایک آبرومندانہ اور متوازن معاہدہ طے پانے کے لیے کام کرنے کو تیار ہیں۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان مذاکرات اب ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت میں تبدیل ہوچکے ہیں اور اس عمل میں شریک باقی ممالک کا کہنا ہےکہ اگر یہ دونوں ممالک کسی سمجھوتے پر متفق ہوجاتے ہیں تو وہ بھی اس سے اتفاق کرلیں گے۔ اس لیے ایرانی وزیرخارجہ نے امریکا کو براہ راست مخاطب کرکے اس پر مذاکرات کے دوران اپنے مطالبات تبدیل کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

طرفین کے درمیان مجوزہ حتمی معاہدے کی شرائط اور ضوابط کے حوالے سے امریکا اور روس کے درمیان بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔روس ایران کے اس مطالبے کی حمایت کررہا ہے کہ اس معاہدے کے حصے کے طور پر ایران پر عاید اسلحے کی متنازعہ پابندی جزوی طور پر ختم کی جانی چاہیے جبکہ امریکا اس کی مخالفت کررہا ہے۔

چھے بڑی طاقتیں آئی اے ای اے کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ سائنسدانوں ،جوہری تنصیبات اور دستاویز تک رسائی کا مطالبہ کررہی ہیں لیکن ایران عالمی معائنہ کاروں کو ایسی کوئی رسائی دینے کو تیار نہیں ہے اور اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے 23 جون کو ایک تقریر میں عالمی معائنہ کاروں کو فوجی تنصیبات اور جوہری سائنسدانوں تک رسائی دینے سے صاف انکار کردیا تھا۔

بعض سفارت کاروں کے بہ قول مذاکرات میں شریک ایرانی وفد اس موقف میں لچک پیدا کرنے کو تیار ہے مگر ایران کے سخت گیر جوہری تنصیبات کے بلا روک ٹوک معائنے کی مخالفت کررہے ہیں۔ ایرانی فوج کے جنرل مسعود جزائری نے فارس نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ " فوجی تنصیبات تک کسی بھی صورت میں رسائی نہیں دی جائے گی۔"

ڈیڈلائن میں توسیع

طرفین نے جوہری تنازعے پر حتمی معاہدے کے لیے پہلے 30 جون کی ڈیڈلائن مقررکی تھی اور پھر اس میں سات جولائی تک توسیع کی تھی۔ اب ایرانی وفد کا کہنا ہے کہ وہ مزید مذاکرات کے لیے تیار ہیں جبکہ امریکا غیرمعینہ مدت کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کے حق میں نہیں ہے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے گذشتہ روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ " اگر مشکل فیصلےنہیں کیے جاتے ہیں تو ہم اس عمل کے مکمل خاتمے کے لیے بالکل تیار ہیں۔" انھوں نے واضح کیا کہ مذاکرات غیر معینہ مدت کے لیے جاری رہیں گے اور نہ ہم ہمیشہ کے لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھے رہیں گے۔

اگر طرفین کے درمیان مجوزہ معاہدہ طے پاجاتا ہے تو اس کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کردے گا اور وہ یورینیم کو اعلیٰ سطح پر افزودہ کرنے کی صلاحیت سے دستبردار ہوجائے گا جبکہ اس کے بدلے میں اس پر امریکا اور مغربی ممالک کی جانب سے عاید کردہ کڑی اقتصادی پابندیاں ختم کردی جائیں گی۔ ایران کا اس بات پر اصرار ہے کہ اس پر عاید پابندیاں پہلے ختم کی جائیں جبکہ امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک پہلے اس کے جوہری پروگرام کے رول بیک کی تصدیق چاہتے ہیں۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان اپریل میں فریم ورک سمجھوتا طے پایا تھا مگراس کے باوجود اس ملک میں امریکا مخالف جذبات عروج پر ہیں اور جمعہ کو دارالحکومت تہران میں سالانہ یوم القدس مارچ کے موقع پر ہزاروں ایرانیوں نے امریکا کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے۔ انھوں نے حسب معمول ''امریکا مردہ باد'' اور ''مرگ بر اسرائیل'' کے نعرے لگائے ہیں۔