.

تیونس:سکیورٹی فورسز نے پانچ دہشت گرد ہلاک کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی سکیورٹی فورسز نے ملک کے وسطی علاقے قفصہ میں پانچ مشتبہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔

تیونس کی وزارت داخلہ کے ترجمان الید الوجینی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان پانچ دہشت گردوں کو جبل عرباطہ کے علاقے میں ہلاک کیا گیا ہے۔ان کی انٹیلی جنس اطلاع کی بنا پر جمعہ کی صبح سے نگرانی کی جارہی تھی اور ان پر پہلی گولی صبح نو بجے چلائی گئی تھی۔

تاہم ترجمان کو ان پانچوں مہلوکین کے بارے میں مزید تفصیل معلوم نہیں تھی۔ان کے قبضے سے چار کلاشنکوفیں ،ایک دستی بم اور ایک پستول برآمد کر لیا گیا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

تیونس کی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ ماہ مشہور سیاحتی مقام سوسہ میں سمندر کنارے واقع ہوٹل مرحبا کے احاطے میں مسلح شخص کی فائرنگ سے اڑتیس سیاحوں کی ہلاکت کے بعد مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں اور اس واقعے میں ملوّث ہونے کے شبے میں بیسیوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔عراق اور شام میں برسر پیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس واقعے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

حکام کے ایک اندازے کے مطابق اس وقت قریباً پانچ ہزار تیونسی عراق اور شام میں جاری جنگوں میں شریک ہیں۔وہ داعش اور دوسرے انتہا پسند گروپوں کے ساتھ مل کر مخالفین کے خلاف لڑرہے ہیں۔سکیورٹی حکام اس تشویش کا اظہار کرچکے ہیں کہ ان جنگجوؤں میں سے بعض وطن لوٹنے کی صورت میں حملے کرسکتے ہیں۔