.

یمن میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود لڑائی جاری

سعودی اتحاد کے صنعا پر حملے، حوثیوں کی عدن کے شہری علاقوں پر گولہ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے تمام بڑے متحارب فریقوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے اعلان کردہ جمعہ کی نصف شب سے جنگ بندی کی توثیق کی ہے لیکن اس کے باوجود برسرزمین شدید لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں اور سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایک مقامی عہدے دار کے مطابق حوثی باغیوں نے جنوبی شہر عدن میں رہائشی علاقوں پر جمعرات کی شب سے گولہ باری جاری رکھی ہوئی ہے اور انھوں نے یمن کے مشرق میں واقع حضرموت کے صحرا کی جانب بھی پیش قدمی کی ہے۔یمن کا یہ علاقہ تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے آج جمعہ کو دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں اور ان کی اتحادی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔اس سے پہلے رات کو انھوں نے یمن کے وسطی اور جنوبی شہروں میں حوثیوں کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ روز یمن میں غیرمشروط طور پر انسانی بنیاد پر رمضان المبارک کے اختتام تک جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور تنازعے کے تمام فریقوں پر زوردیا تھا کہ وہ ہرقسم کے تشدد سے باز آجائیں۔اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ''سیکریٹری جنرل یمن میں تنازعے کے تمام فریقوں کی جانب سے غیرمشروط طور پر جنگ بندی کی پاسداری کے وعدوں کے منتظر ہیں۔اس کا آغاز جمعہ 10 جولائی کی شب گیارہ بج کر انسٹھ منٹ پر ہوگا''۔

حوثی تحریک کے ایک سرکردہ لیڈر محمد الحوثی نے اس اعلان کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ''ہم امید کرتے ہیں،یہ جنگ بندی سعودی جارحیت اور اقوام متحدہ کے کنونشنوں کی خلاف ورزیوں کے اختتام کا آغاز ثابت ہوگی''۔

سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت نے بھی انسانی بنیاد پر لڑائی میں وقفے کا خیرمقدم کیا ہے۔علی صالح کے وفادار فوجی یونٹ اس وقت حوثی تحریک کے شانہ بشانہ جلاوطن یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کے خلاف لڑرہے ہیں۔

یمن میں رمضان المبارک کے اختتام تک جنگ بندی کرانے میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے اہم کردار ادا کیا ہے۔انھوں نے حوثی لیڈروں کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کے لیے جمعرات کے روز ان سے طویل مذاکرات کیے تھے۔انھوں نے بعد میں برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''انسانی امدادی سرگرمیوں کی تکمیل کے بعد مشکل تر سیاسی بات چیت کا عمل شروع ہوگا''۔

یمنی حکومت نے جنگ بندی کے لیے حوثی باغیوں سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپریل میں منظور کردہ قرارداد پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنے زیر قبضہ علاقوں کو خالی کردیں اور اپنے زیرحراست قیدیوں کو بھی رہا کریں۔

یمنی وزیرخارجہ ریاض یاسین نے سعودی عرب کے سرکاری اخباریہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمیں نام نہاد انسانی بنیاد پر جنگ بندی ،جس پر کہ اقوام متحدہ کا اصرار ہے اور جامع اور مکمل جنگ بندی میں تمیز کرنی چاہیے۔ہمارا اس بات پر اصرار ہے کہ حوثی فورسز کے انخلاء کے بعد جامع سیزفائرہونا چاہیے''۔

لیکن حوثی باغی ان مطالبات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں اور وہ گذشتہ سال ستمبر میں دارالحکومت صنعا میں سرکاری عمارات اور دفاتر پر قبضے اور ملک کے جنوبی اور وسطی شہروں کی جانب اپنی یلغار کو ان کے اپنے بہ قول مغرب کی حمایت یافتہ بدعنوان حکومت کے خلاف انقلاب کا حصہ سمجھتے ہیں جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد ان کا یہی قبضہ ختم کرانے اور صدر منصور ہادی کی حکومت کو بحال کرانے کے لیے مارچ سے حوثیوں اور ان کے اتحادیوں پر فضائی حملے کررہا ہے۔