.

اسرائیل میں ایرانی سفارت خانہ قائم، سفیر کی تلاش جاری!

تہران اور تل ابیب میں قربت پیدا کرنے کی منفرد عوامی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اوراسرائیل دونوں ایک دوسرے کے کٹر دشمن ملک خیال کیے جاتے ہیں۔ مستقبل قریب میں دونوں ملکوں کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات کے قیام کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا مگر دونوں ملکوں کے عوامی حلقوں کی جانب سے دوطرفہ سفارتی تعلقات کے قیام کے لیے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔ اس کی تازہ مثال حال ہی میں اسرائیل میں سامنے آئی جہاں مختلف فن کاروں، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے افراد نے "اسلامی جمہوریہ ایران" کا پرچم لہراتے ہوئے ایک علامتی سفارت خانہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران اور اسرائیل کےدرمیان خفیہ مراسم پرانے ہیں۔ اگرچہ دونوں ملکوں کی قیادت ان سے انکاری ہے۔ تاہم مصدقہ اطلاعات کے مطابق سنہ 1980ء تا 1988ء کی عراق ۔ ایران جنگ کے دوران تل ابیب نے تہران کو پیٹریاٹ طرز کے "ایران کونٹرا" [ایران جیٹ] نامی میزائل فراہم کیے تھے۔

آج ایک بار پھر دونوں ملکوں کے درمیان عوامی سطح پر رابطے بڑھانے کی ایک نئی مہم دیکھی جا رہی ہے۔ چونکہ دونوں ملکوں کے درمیان سنہ 1979ء کے بعد سے سفارتی تعلقات منطقع ہیں، اس لیے اب اسرائیل کے عوامی حلقوں میں ایران کے حوالے سے "ہاتھ ہولا" رکھنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اسرائیل کے ایک موقراخبار "ہارٹز" کے انگریزی ایڈیشن نے ایک تصویر شائع کی ہے۔ اس تصویر میں سول سوسائٹی کے کچھ لوگوں، فن کاروں اور سماجی کارکنوں کو دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے مل کر ایران کا قومی پرچم تھام رکھا ہے۔ یاد رکھیں یہ ایرانی اپوزیشن والا پرچم نہیں بلکہ ولایت فقیہ کا پرچم ہے۔ ان لوگوں کی جانب سے ایران کا پرچم اٹھانے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے رائے عامہ ہموار کرنا اور حکومت پر دبائو ڈالنا ہے تاکہ تل ابیب میں ایرانی سفارت خانے کے قیام کی راہ ہموار کی جاسکے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان قربت پیدا کرتے ہوئے ایک دوسرے کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر کو کم کرنا ہے۔ ایران کے ہاں اسرائیل کی ساکھ بحال کرنا اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ کو ایران کے خلاف پروپیگنڈے سے روکنا ہے۔

سماجی کارکنوں اور ایران سے تعلقات کے خواہاں اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مہم کو مزید وسعت دیں گے۔ جلد ہی وہ تل ابیب میں ایک نمائش کا بھی اہتمام کرنے والے ہیں جس میں ایرانی مشروبات وماکولات کو پیش کریں گے۔ اسی مہم کے تحت اسرائیل کے مختلف شہروں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے پرچم بھی لہرائے جائیں گے۔

یاد رہے کہ ایران میں سنہ 1979ء میں برپا ہونے والے ولایت فقیہ کے انقلاب سے قبل اسرائیل اور ایران کے درمیان گہرے مراسم تھے۔ دونوں ملکوں میں تجارت، زراعت اور تکنیکی شعبوں میں علانیہ تعاون جاری تھا۔ ما بعد انقلاب جہاں سفارتی تعلقات ختم ہوئےوہیں دوسرے شعبوں میں تعاون بھی نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔

علامتی سفیر کی تلاش!

اسرائیل میں ایران کے حوالے سے جاری تازہ مہم ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صہیونی ریاست سیاسی اور عسکری قیادت ایران اور گروپ چھ کے درمیان جاری مذاکرات پر انگاروں پر لوٹ رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو کی جانب سے متعدد بار عالمی برادری کو ایران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتے کے مضمرات سے خبردار کیا گیا ہے۔ اس تنبیہ میں تل ابیب اپنے دکھ سکھ کے ساتھ امریکا پر کڑی تنقید سے بھی باز نہیں آیا۔

اگرچہ سماجی کارکنوں کی جانب سے ایران کے علامتی سفارت خانے کا قیام عمل میں لایا گیا ہے مگر موجودہ حالات میں علامتی سفیرکی خدمات کون انجام دے گا ، یہ طے نہیں ہوسکا ہے تاہم علامتی سفیر کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ علامتی سفیر کی تلاش کے لیے سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری ہے اور اس بحث میں نہ صرف اسرائیلی شہری حصہ لے رہے ہیں بلکہ ایرانی کارکن بھی میدان میں آگئے ہیں۔

"اسرائیل میں ایرانی سفیر کی خالی سیٹ کو پرکیجیے" یہ اس مہم کہ شہ سرخی ہے جو اس وقت سوشل میڈیا پر چل رہی ہے۔ اس میں اسرائیل اور پوری دنیا میں موجود ایرانیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل میں علامتی سفیرکی خالی کرسی سنھبالنے کے لیے کسی موزوں شخصیت کا تعین کریں۔

اس کے علاوہ سماجی ذرائع ابلاغ پرجاری مہم میں ایرانیوں کو اسرائیل کی طرف سفر کی بھی دعوت دی گئی ہے۔ مہم کے روح رواں کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ علامتی سفیر کو تنخواہ تو نہیں دے سکتے اور نہ ہی علامتی سفارت خانے کے عملے کے دیگر واجبات پورے کرسکتے ہیں۔ چونکہ یہ سب کچھ علامتی ہے اس لیے اس مہم کو آگے بڑھانے میں مدد ملنی چاہیے۔

ایک اہم سوال جو ایرانی سفارت خانے کےقیام کی مہم میں پیش پیش کارکنوں کو سننا پڑ رہا ہے وہ یہ کہ آیا ان کے اس اقدام سے شدت پسند مخالفین کا کیا طرز عمل ہوگا؟ اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ہم یہودی اقدار سے باہرنکل کر کچھ نہیں کررہے ہیں۔ ہم ایران کے بارے میں مثبت سوچ کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور مذہب اس سے منع نہیں کرتا۔ نیز یہ کہ بیت المقدس میں ایران کے علامتی سفارت خانے کے لیے سرگرمیوں می اجازت اسرائیلی بلدیہ نہیں انہیں دے رکھی ہے۔ اس لیے انہیں کسی کی اچھی بری تنقید کی پرواہ نہیں ہے۔ ہم خوش نصیب ہیں جو دو دشمنوں کی دشمنی کو دوستی میں بدلنے کی 'مساعی جمیلہ' کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ ایران کے سابق بادشاہ نے انقلاب سے قبل بیت المقدس میں اسرائیل سے سفارت خانے قیام کی خاطر زمین خرید کی تھی۔ تاہم سفارت خانہ قائم نہ ہونے پر اس جگہ کو ایک پارک میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

ایرانی فرموں کا اسرائیل کے ساتھ لین دین

مئی سنہ 2014ء میں ایرانی ذرائع ابلاغ نے مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] کے ایک رکن کا بیان نقل کیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی کم سے کم 55 فرمیں ایسی ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسرائیل کے ساتھ لین دین کی مرتکب ہیں۔ انہوں نے وزارت خارجہ اور ملٹری انٹیلی جنس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ لین دین کرنے والی فرموں کے خلاف تحقیقات شروع کریں۔

خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق پارلیمنٹ کی "ایکٹ 90 کمیٹی" کے ترجمان مصطفیٰ افضلی کی جانب سے رکن پارلیمنٹ کے الزام کے جواب میں کہا گیا تھا کہ اس طرح کے الزامات کا مطلب ملک کے تین بڑے اداروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کرنا ہے۔

ایرانی رکن شوریٰ کے مطالبے کے باوجود وزارت خارجہ وزارت برائے انٹیلی جنس کی جانب سے کسی قسم کی تحقیقات کی گئیں اور نہ ہی اسرائیل سے تعاون کرنے والی کمپنیوں کے بارے میں کوئی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی گئی تھی۔

ذرائع ابلاغ نے ایران کے ساتھ 55 کمپنیوں کے تعاون کا دعویٰ کرنے والے رکن شوریٰ کا نام بھی صیغہ راز میں رکھا تھا۔