.

اوباما ،روحانی :تاریخی جوہری معاہدے کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما اور ان کے ایرانی ہم منصب حسن روحانی نے ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس سے منگل کے روز ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ ''اس معاہدے سے ایران کے لیے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے ہر راستے کو منقطع کردیا گیا ہے۔امریکا نے ایک مضبوط موقف کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں اور ہم نے اس خطے میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روک دیا ہے''۔

انھوں نے امریکا اور ایران کے درمیان ایک ''مشکل تاریخ'' کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ'' سفارتی فتح نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ اس کو تبدیل کرنا ممکن ہے۔اس ڈیل سے ایک نئی سمت کی جانب آگے بڑھنے کا موقع ملے گا اور ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے''۔

صدر اوباما کی یہ تقریر ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے بھی نشر کی گئی ہے۔اس کے اختتام پر ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے خیرمقدمی بیان میں کہا کہ اس سمجھوتے سے کئی سال کی پابندیوں کے بعد ایران کے بیرونی دنیا کے ساتھ تعاون کا ایک نیا باب وا ہوگا۔دونوں جانب کی جیت کے نتیجے سے بتدریج باہمی عدم اعتماد بھی ختم ہوجائے گا۔

انھوں نے کہا کہ سمجھوتے کے تحت جب تک عالمی طاقتیں اپنی ذمے داریوں کو پورا کریں گی تو ایران بھی ایسا کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ''اس معاہدے سے ایران نے جوہری پروگرام کے تحت جو کامیابیاں حاصل کی ہیں،ان کا تحفظ ہوا ہے''۔

ایرانی صدر نے پڑوسی ممالک پر بھی زوردیا کہ وہ اسرائیل کے پروپیگنڈے کو نظرانداز کردیں کیونکہ ایران خطے کا استحکام چاہتا ہے۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان معاہدے کو ایک تاریخی غلطی قرار دیا ہے۔اس کے تحت ایران اپنا جوہری پروگرام رول بیک کردے گا۔اعلیٰ سطح کی یورینیم کے ذخیرے کو ضائع کردے گا اور اس کے بدلے میں اس پر عاید امریکا، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی پابندیاں ختم کردی جائیں گی۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی نے اس معاہدے کو ایک اچھی ڈیل قرار دیا ہے۔جان کیری نے معاہدے کے بعد ویانا میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''یہ ایک اچھی ڈیل ہے اور یہی ہم چاہتے تھے''۔

فیڈریکا مغرینی نے اس موقع پر کہا کہ ''آج ایک تاریخی دن ہے اور ہمارے لیے یہ ایک بڑے اعزاز کی بات ہے کہ ہم ایران کے نیوکلئیر ایشو پر سمجھوتا طے پانے کا اعلان کررہے ہیں''۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ڈیل کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ''اس سے ہمارا بنیادی مقصد حاصل ہوگیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے دور رکھا جائے۔اس سے ہماری دنیا کو ایک محفوظ جگہ بنانے میں مدد ملے گی''۔