.

حکومت نواز مزاحمتی فورسز کا عدن کے ہوائی اڈے پر قبضہ

عوامی مزاحمتی فورسز نے حوثی ملیشیا کو شہر کے بعض علاقوں سے پسپا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی شہر عدن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے حامی جنگجوؤں نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف ایک نئی کارروائی کا آغاز کیا ہے اور انھوں نے شہر کے ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق عوامی مزاحمت سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے منگل کے روز حوثی ملیشیا اور ان کے اتحادیوں کو عدن شہر کے بعض دوسرے علاقوں سے بھی پسپا کردیا ہے۔انھیں حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد بھی حاصل ہے۔

عدن کی بندرگاہ پر موجود جنگی بحری جہازوں نے بھی حوثی ملیشیا کے خلاف اس لڑائی میں حصہ لیا ہے۔یمنی صدر کے دفتر کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ حوثیوں سے تمام شہر کا کنٹرول واپس لینے کے لیے شروع کی گئی نئی جنگی مہم میں جنگی بحری جہازوں سے بھی حوثیوں پر گولہ باری کی جارہی ہے۔

شہر میں صدر کے دفتر کے ڈائریکٹر محمد مارم نے بتایا ہے کہ ''جلاوطن صدر عبد ربہ منصور ہادی ذاتی طور پر عدن کی آزادی کے لیے آپریشن سنہرا تیر کے نام سے اس مہم کی نگرانی کررہے ہیں''۔

واضح رہے کہ یمنی فوج کی انتالیسویں آرمرڈ بریگیڈ کے فوجیوں نے حوثی ملیشیا کے ساتھ ملنے کے بعد 25 مارچ کو عدن کے ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا تھا۔حوثی ملیشیا اور ان کے اتحادیوں نے بعد میں صدارتی محل اور شہر کے دوسرے حصوں پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔

حوثیوں کی عدن پر یلغار کے بعد صدر منصور ہادی ملک سے سعودی دارالحکومت الریاض چلے گئے تھے اور وہ وہیں سے اب اپنی حکومت چلا رہے ہیں۔عدن کے ہوائی اڈے پر دوبارہ کنٹرول ان کے حامی جنگجوؤں کی حوثی ملیشیا کے خلاف لڑائی میں پہلی نمایاں کامیابی ہے۔

حوثیوں نے گذشتہ سال ستمبر میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سرکاری فوج نے ان کی کوئی مزاحمت نہیں کی تھی بلکہ سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار دستے بھی حوثیوں کے ساتھ مل گئے تھے اور پھر انھوں نے یمن کے جنوبی اور وسطی شہروں کی جانب یلغار شروع کردی تھی مگر ان شہروں میں صدر منصور ہادی کی حکومت کے وفادار فوجی یونٹوں اور مقامی قبائل نے ان کی سخت مزاحمت کی ہے جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیارے بھی مارچ سے ان کے ٹھکانوں اور زیر قبضہ عمارتوں پر بمباری کررہے ہیں۔