.

نائیجیریا: بوکو حرام کے حملوں میں 40 سے زیادہ افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نائیجیریا کی شمال مشرقی ریاست بورنو میں واقع چار دیہات میں بوکو حرام کے جنگجوؤں نے شب خون کارروائیوں میں چالیس سے زیادہ افراد کو ہلاک کردیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق بوکو حرام کے جنگجوؤں نے بعض مکینوں کے گلے کاٹ دیے ہیں اور بعض کو گولیاں مار کر ہلاک کیا ہے۔شمال مشرقی ریاست بورنو کے ایک گاؤں کلوہ کے ایک مکین شریف کلو نے بتایا ہے کہ ''بوکو حرام کے مسلح جنگجو رات کے وقت ہمارے گاؤں میں آئے تھے اور انھوں نے مکینوں پر اندھا دھند فائرنگ کی ہے اور بعض لوگوں کو بے دردی سے ذبح کردیا ہے۔

یہ شہری اپنے گاؤں سے بھاگ کر بورنو کے دارالحکومت میدغری میں پہنچنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔مسٹر کلو نے بتایا ہے کہ مسلح افراد نے ان کے گاؤں میں دیہاتیوں سے خوراک اور مویشی چھین لیے اور اس کے بعد ان کے مکانوں کو نذر آتش کردیا ہے۔

انھوں نے کلوہ میں گاؤں کے سربراہ سمیت سات افراد کو ہلاک کیا ہے اور ایک شخص کی ٹانگ توڑ کر اس کو شدید زخمی کردیا ہے۔اس کے بعد وہ نزدیک واقع تین دیہات گولام ،مسالا اور مگارام کی جانب چلے گئے تھے۔ وہاں بھی انھوں نے اسی طرح کی کارروائی کی اور مجموعی طور پر تینتالیس افراد کو ہلاک کیا ہے۔

بہت سے خواتین اور بچے بوکو حرام کے حملے میں جانیں بچا کر قصبے مونگنو کی جانب چلے گئے ہیں جہاں وہ کھلے آسمان تلے کھانے پینے کے سامان کے بغیر رہ رہے ہیں۔بعض لوگ بھاگ کر میدغری پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جہاں انھوں نے حکام کو اس واقعے کی اطلاع دی ہے۔

ان ہلاکتوں کی کسی اور ذریعے سے تصدیق ممکن نہیں لیکن ریاست بورنو کے پولیس کمشنر آدریمی پدوکون نے بوکو حرام کی جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب چھاپہ مار کارروائیوں کی تصدیق کی ہے لیکن ان کا بھی کہنا ہے کہ وہ ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کرسکتے ہیں۔

نائیجیریا کے اس شورش زدہ دور دراز علاقے میں فون نیٹ ورکس کی عدم موجودگی کی وجہ سے بوکو حرام کی کارروائیوں کی تفصیل تاخیر سے منظرعام پر آتی ہے۔بوکو حرام نے 29 مئی کو نائیجیری صدر محمد بخاری کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے شمال مشرقی علاقوں میں اپنے حملے تیز کردیے ہیں اور اس تنظیم کے جنگجو کم وبیش روزانہ ہی بم دھماکے یا خودکش بم حملے کررہے ہیں۔

محمد بخاری نے سوموار کو مسلح افواج کی تمام ہائی کمان کو ہٹا دیا تھا۔ان فوجی افسروں کا ان کے پیش رو صدر گڈلک جوناتھن نے تقرر کیا تھا۔نائیجیری صدر کے اس اقدام سے لگتا ہے کہ وہ بوکو حرام کے جنگجوؤں کی سرکوبی کے لیے نئی حکمت عملی پر عمل پیرا ہونا چاہتے ہیں اور وہ ان کا قلع قمع چاہتے ہیں۔