.

'ایران، عالمی طاقتوں میں تاریخی معاہدہ طے پاگیا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز نے ایرانی سفارتکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تاریخی معاہدہ دو ہفتوں کی سیاسی سودے بازی کے بعد بالآخر طے پا گیا ہے۔

اس معاہدے کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کو ایران کی فوجی تنصیبات کا دورہ کرنے کی اجازت ہو گی تاکہ وہ جوہری پروگرام پر نظر رکھ سکیں۔ ایرانی میڈیا نے اس مطالبے کو پہلے مسترد کردیا تھا۔

ایرانی سفارتکار نے 'رائیٹرز' سے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "تمام محنت کا ثمر سامنے آگیا ہے اور تاریخی معاہدہ پایہ تکمیل پاگیا ہے۔ خدا ہمارے عوام کا بھلا کرے۔" ایک دوسرے ایرانی سفارتکار نے اس بیان کی تصدیق کر دی ہے۔

معاہدے میں شامل ایک شق کے تحت کسی بھی تنصیب کے معائنے کی اجازت فوری طور پر نہیں دی جائے گی جس کے نتیجے میں اس معاہدے کے نقادوں کو تہران پر الزام لگانے کا موقع ملے کہ وہ اس شق کی آڑ میں معاہدے کی عدم تعمیل کے تمام نشانات مٹا دے گا۔

اس معاہدے کے تحت ایران کو حق حاصل ہوگا کہ وہ اقوام متحدہ کی درخواست کو چیلنج کرسکے گا اور ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے نمائندوں مشتمل ایک ثالثی بورڈ قائم کیا جائے گا جو اس معاملے کا حل نکالے گا۔

اس سب کے باوجود ایسا کوئی بھی معاہدہ ایران کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے اقوام متحدہ کے تحت بین الاقوامی اٹامک انرجی ایجنسی کو اپنی تنصیبات کے دورہ کی اجازت نہ دینے کے بیانات سے انحراف ہوگا۔

ایک مغربی سفارتکار نے خبررساں ایجنسی 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کو بتایا کہ اس معاہدے کا باضابطہ اعلان تمام مذاکرات کاروں کی جانب سے فائنل فریم ورک کی تیاری کے بعد سامنے آئے گا۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موغیرینی منگل کو مقامی وقت کے مطابق دن ساڑھے دس بجے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفریس میں اعلامیہ پڑھ کر سنائیں گے۔

معاہدے کی تکمیل کے بعد اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا جائےگا جہاں اس کی اس ماہ کے آخر تک منظوری دے دی جائے گی جس کے بعد معاہدے پر عمل درآمد کے لیے انتظام شروع کردیا جائےگا۔