.

ترکی :قوم پرستوں کا مخلوط حکومت میں شمولیت سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی قوم پرست جماعت نے حکمراں انصاف اور ترقی پارٹی (آق) کی قیادت میں مخلوط حکومت کے قیام کے لیے اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے منگل کے روز انقرہ میں قوم پرست جماعت کی قیادت سے نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں بات چیت کی ہے لیکن انھوں نے اس مجوزہ حکومت کا حصہ بننے سے صاف انکار کردیا ہے۔

ترک صدر نے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کو نو جولائی کو نئی حکومت بنانے کی دعوت دی تھی۔نئی مخلوط حکومت کا حصہ بنانے کے لیے وہ پارلیمان میں تین چھوٹی جماعتوں کی قیادت سے سے مذاکرات کررہے ہیں۔ان کے پاس مخلوط اتحاد کے قیام کے لیے پینتالیس دن کا وقت ہے اور اگر وہ اس میں ناکام رہتے ہیں تو پھر ترکی میں نئے سرے سے انتخابات کرانا پڑیں گے۔

احمد داؤد اوغلو نے قوم پرست تحریک جماعت کے لیڈر داؤلت بحچیلی سے بات چیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دائیں بازو کی یہ سخت گیر جماعت حکومت میں شمولیت کے بجائے حزب اختلاف کا حصہ رہنے کو ترجیح دے گی۔تاہم انھوں نے اس جماعت کے ساتھ مستقبل میں مزید بات چیت کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔

قوم پرست جماعت کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ حکمراں آق کی فطری اتحادی ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ مذہبی اقدار کی حامل ہیں اور ترکی کا قدامت پرست حلقہ ان کا مشترکہ ووٹ بنک ہے۔

احمد داؤد اوغلو نے سوموار کے روز حکمراں جماعت آق کی حریف بڑی سیکولر جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی کے سربراہ کمال قلیچ دار اوغلو اور دوسرے قائدین سے ملاقات کی تھی اور اس کے بعد کہا تھا کہ انھوں نے دوستانہ اور مخلصانہ انداز میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

اس ملاقات کے بعد انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طرفین نے ایک مضبوط حکومت کے قیام کی ضرورت پر زوردیا ہےاور اس سلسلے میں بات چیت جاری رکھنے سے اتفاق کیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی کے عہدے دار سیکولرسٹوں کے ساتھ اتحاد کے امکانات کے لیے مزید مذاکرات کریں گے۔

ترکی میں سات جون کو منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کی جماعت آق اکثریت حاصل نہیں کرسکی تھی اب وہ حکومت بنانے کے لیے پارلیمان میں تین چھوٹی جماعتوں میں سے کسی ایک کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے بات چیت کررہے ہیں۔وہ بدھ کو کرد جماعت کی قیادت سے مذاکرات کریں گے۔انھوں نے قبل ازیں کردوں کے ساتھ اتحاد کے امکان کو مسترد کردیا تھا۔

مخلوط حکومت میں شمولیت کے لیے یہ تینوں جماعتیں صدر رجب طیب ایردوآن کے اختیارات کو محدود کرنے کی پیشگی شرط عاید کر چکی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ صدر کے پاس صرف واجبی اختیارات ہونے چاہئیں اور وزیراعظم کو زیادہ اختیارات کا حامل ہونا چاہیے۔ چھوٹی جماعتیں صدر رجب طیب ایردوآن کے قریب سمجھے جانے چار سابق وزراء کے خلاف بدعنوانیوں کے کیس دوبارہ کھولنے کا بھی مطالبہ کررہی ہیں۔

لیکن صدر رجب طیب ایردوآن نے ان جماعتوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ مخلوط حکومت کے قیام کے لیے مذاکرات کے دوران ان کے عہدے کو دور ہی رکھیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خوابیدہ منصوبوں کی راہ میں حائل ہونے والی کسی بھی ڈیل کے آگے کھڑے ہوجائیں گے۔

انھوں نے سوموار کی شام افطاری کے موقع پر تقریر میں خبردار کیا تھا کہ وہ استنبول میں تیسرے ہوائی اڈے کی تعمیر اور تیسرے پل وغیرہ کی تعمیر کے منصوبوں کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔سیکولر جماعت کے بعض ارکان نے ان میں سے بعض منصوبوں کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے کیونکہ ان پر ماہرین ماحولیات نے بھی اعتراضات کیے ہیں۔