.

کویت بم حملہ: تین پاکستانیوں سمیت 29 افراد پر فرد جرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں عدالتی حکام نے تین پاکستانیوں سمیت انتیس مشتبہ افراد کے خلاف گذشتہ ماہ اہل تشیع کی ایک مسجد میں خودکش بم دھماکے کے الزام میں فرد جرم عاید کردی ہے۔

کویت شہر کے علاقے الصوابر میں واقع مسجد امام الصادق میں 26 جون کو ایک سعودی بمبار نے خودکش بم دھماکا کیا تھا۔اس کے نتیجے میں ستائیس افراد ہلاک اور دوسو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔عراق اور شام میں برسرپیکار دولت اسلامی (داعش) سے وابستہ ایک گروپ نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

کویت کی سرکاری خبررساں ایجنسی کونا کے مطابق جن افراد کے خلاف منگل کے روز فرد جُرم عاید کی گئی ہے،ان میں سات کویتی ،پانچ سعودی ،تین پاکستانی اور تیرہ غیرریاستی باشندے (بدّو) ہیں۔ایک ملزم مفرور ہے۔

ان میں سے چوبیس ملزمان کویت میں گرفتار ہیں اور پانچ کے خلاف ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ان میں سعودی عرب میں گرفتار دو سگے بھائی بھی شامل ہیں۔انھوں نے مبینہ طور پر کویت میں بم حملے میں استعمال ہونے والا دھماکا خیز مواد پہنچایا تھا۔

استغاثہ نے دو مشتبہ افراد کے خلاف قتلِ عمد اور ارادہ قتل کے الزام میں فرد جرم عاید کی ہے۔دو افراد پر دھماکا خیز مواد استعمال کرنے کی تربیت دینے اور نو افراد پر جرم کی معاونت کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔باقی افراد کو جرم کے بارے میں جانتے بوجھتے ہوئے حکام کو مطلع نہ کرنے پر اس مقدمے میں ماخوذ کیا گیا ہے۔

داعش سے وابستہ خودساختہ گروپ صوبہ نجد نے کویت میں اس خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ اسی نے مئی میں سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں اہل تشیع کی دو مساجد میں خودکش بم دھماکے کیے تھے۔

دہشت گردی کے اس بڑے واقعے کے بعد کویتی حکومت نے داعش کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر کہیں بھی موجود داعش سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائی کرے گی۔ خودکش بم دھماکے کی تحقیقات کرنے والے کویتی حکام نے ایک سو سے زیادہ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

کویت میں اس خودکش بم دھماکے کے تناظر میں کابینہ نے سوموار کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کی تمام شکلوں کے خلاف جنگ کے لیے ایک مستقل کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ کمیٹی اس خلیجی ریاست میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اداروں کے ساتھ رابطے کے ذریعے کام کرے گی۔