.

"ایران سمجھوتے پر برہنہ بادشاہ کی مثال صادق آتی ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور مغرب کے درمیان طے پائے تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر سمجھوتے کو اسرائیل کی جانب سے ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا گیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیردفاع موشے یعلون کے بعد ہر اسرائیلی عہدیدار کی تان ایران کے جوہری معاہدے پر ٹوٹتی ہے۔

نیتن یاھو کی کابینہ میں شامل جوہری شعبے کے وزیر یووال اسٹائنٹیز نے ایران اور گروپ چھ کے مابین طے پائے سمجھوتے پر دلچسپ انداز میں تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "سمجھوتے کی مثال ننگے بادشاہ کی ہے جو خود تو یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ وہ ایک ایسے لطیف لباس میں ملبوس ہے جو صرف عقل مندوں کو دکھائی دیتا ہے۔ بادشاہ کے دربار میں موجود ایک بچہ بادشاہ کی طرف انگلی اٹھا کر کہتا ہے کہ "بادشاہ سلامت تو ننگے ہیں"۔ اسی طرح ایران اور مغرب کے درمیان طے پائے معاہدے کو جو مرضی لباس پہنایا جائے عملا "ننگے بادشاہ" والی کہاوت ہی اس پر صادق آتی ہے۔

خیال رہے کہ منگل کے روز ویانا میں ایران اور گروپ چھ کے درمیان طے پائے تاریخی معاہدے کو اسرائیل نے تسلیم کرنے سے صاف انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس معاہدے کا پابند نہیں ہے۔ تل ابیب کا کہنا ہے کہ ایران سے سمجھوتے کے بعد صہیونی ریاست کو لاحق خطرات بڑھ گئے ہیں کیونکہ اس سمجھوتے کےتحت ایران کو محدود پیمانے پر جوہری توانائی کے حصول کا حق دے دیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیر برائے نیوکلیئر امور اسٹائنٹیز نے تل ابیب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "اسرائیل کی مثال اس چھوٹے بچے کی سی ہے جس نے ننگ دھڑنگ بادشاہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ "بادشاہ سلامت تو ننگے ہیں"۔ اسی طرح ایران اور مغرب کے درمیان طے پایا سمجھوتا بھی ننگے بادشاہ کی طرح عریاں ہے۔

اسرائیل نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان معاہدے کو روکنے کے لیے بھرپور سفارتی اور سیاسی مہم بھی چلائی۔ رواں سال مارچ میں مسٹر یاھو نے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں بھی امریکیوں کو ایران سے معاہدے سے دور رکھنے کی بھرپور کوشش کی مگر بدقسمتی سے اسرائیل ایران کےحوالے سے اپنا موقف امریکا کو سمجھانے یا اس پرقائل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

منگل کے روز ویانا میں طے پائے سمجھوتے کے بعد امریکی صدر باراک اوباما نے فوری طور پر اسرائیلی وزیراعظم کو فون کیا اور انہیں ضمانت دی کہ ایران سے معاہدہ تل ابیب کے لیے خطرہ نہیں ہوگا۔ دوسری جانب نیتن یاھو نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے امریکی صدر کے ساتھ تعلقات کمزور ہیں کیونکہ ان کے بار بار اصرار کا ویانا مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔

اسرائیلی وزیر برائے جوہری امور کا کہنا ہے کہ کئی سال سے ایران اور مغرب کے درمیان جاری مذاکرات کھائیوں اور اندھی غاروں سے بھرے پڑے ہیں۔ خاص طو رپر اس معاہدے کی روح کے مطابق اس پرعمل درآمد کے حوالے سے سوالات اٹھائے جاتے رہیں گے۔

ایران کو صرف اس بات کی تکلیف نہیں کہ مغرب نے ایران کا محدود پیمانے پر جوہری توانائی کا حق تسلیم کرلیا ہے بلکہ ایران کے ایک سو ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی پربھی صہیونی ریاست چراغ پا ہے۔ انہی وجوہات کی بناء پر اسرائیلی وزیر اشٹائنٹیز کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور وہ تنہا اپنے دفاع کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔