.

بن غازی: داعش نے لیبی فوج کے کمانڈر کو ہلاک کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) سے وابستہ جنگجوؤں نے مشرقی شہر بن غازی میں لڑائی کے دوران سرکاری فوج کے ایک کمانڈر کو ہلاک کردیا ہے۔

لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے تحت فوج کے حکام کا کہنا ہے کہ بن غازی کے علاقے لیثی میں اسلامی جنگجوؤں کے ساتھ بدھ کو نئی لڑائی چھڑ گئی ہے جس کے دوران خصوصی فورسز بریگیڈ کے کمانڈر سالم النائلی اور ایک فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

داعش نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں کمانڈر سالم النائلی کے قتل کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔بن غازی میں اسلامی جنگجوؤں اور سرکاری فوج کے درمیان گذشتہ ایک سال سے لڑائی جاری ہے اور فوج فضائی بمباری کے باوجود اسلامی جنگجوؤں کو پسپا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے جبکہ اس دوران داعش کے جنگجوؤں کو بھی دراندازی کا موقع مل گیا ہے۔

بن غازی کے مشرق میں واقع قصبے مارج میں لیبیا کی فوج کے اعلیٰ کمانڈر جنرل خلیفہ حفتر نے سینیر کمانڈروں کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''داعش اور دوسرے جنگجو گروپوں کو تیونس ،الجزائر ،چاڈ ،نائیجیریا اور سوڈان سے مدد ملی رہی ہے''۔

جب خلیفہ حفتر سے پوچھا گیا کہ بن غازی میں لڑائی کب ختم ہوگی تو ان کا کہنا تھا کہ ''میں اس کی کوئی تاریخ تو نہیں دے سکتا لیکن یہ بہت جلد ختم ہوجائے گی''۔واضح رہے کہ خلیفہ حفتر گذشتہ کئی ماہ سے بن غازی میں جلد لڑائی ختم ہونے کے بیانات جاری کررہے ہیں۔

ان کے اس نئے دعوے سے اقوام متحدہ کے لیبیا کے لیے خصوصی ایلچی برنار ڈینو لیون نے اختلاف کیا ہے۔انھوں نے سلامتی کونسل میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ بن غازی میں جھڑپیں؛ جاری ہیں اور کوئی بھی فریق نمایاں پیش قدمی نہیں کررہا ہے۔

واضح رہے کہ داعش کے جنگجو نومبر 2014ء میں پہلے پہل لیبیا کے مشرقی شہر درنہ میں داخل ہوئے تھے اور انھوں نے شہری علاقوں پر قبضے کے بعد بتدریج اسلامی قوانین نافذ کردیے تھے۔اس کے بعد انھوں نے عوامی مقامات پر سگریٹ اور شیشہ پینے پر بھی پابندی لگا دی تھی۔ تاہم داعش کو لیبیا میں مقامی سطح پر زیادہ حمایت حاصل نہیں ہوسکی ہے۔

مصر کی سرحد کے نزدیک واقع لیبیا کے اس ساحلی شہر کو داعش کے حامیوں کا گڑھ خیال کیا جاتا رہا ہے لیکن اسی ہفتے مجاہدین کونسل آف درنہ نے شہر قبضہ کر لیا ہے۔داعش اور مجاہدین کونسل کے درمیان حالیہ دنوں کے دوران خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں۔اس لڑائی میں داعش کو شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔