.

عدن کو حوثیوں سے آزاد کرا لیا گیا: یمنی نائب صدر

یمن کے دوسرے بڑے شہر سے حوثی باغی اور ان کے اتحادی جنگجو پسپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جلاوطن نائب صدر خالد بحاح نے جمعہ کے روز ملک کے دوسرے بڑے شہرعدن کو حوثیوں اور ان کے اتحادیوں سے آزاد کرانے کا اعلان کیا ہے۔عدن میں گذشتہ چار ماہ سے سرکاری فورسز اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی جاری تھی۔

خالد بحاح نے اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا ہے کہ ''حکومت عید الفطر کے پہلے روز سترہ جولائی کو صوبہ عدن کی آزادای کا اعلان کرتی ہے۔ہم عدن اور تمام آزاد کرائے گئے شہروں میں معمولات زندگی بحال کرنے کے لیے کام کریں گے اور ان شہروں میں پانی اور بجلی کی سپلائی بھی بحال کرائیں گے''۔

درایں اثناء الریاض میں یمن کے جلاوطن صدر عبد ربہ منصور ہادی نے عید الفطر کے موقع پر ایک نشری پیغام میں عدن میں حالیہ کامیابیوں پر یمنیوں کو مبارک باد دی ہے۔انھوں نے کہا کہ''عید شروع ہوچکی ہے،بہت سے خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہوچکے ہیں۔وہ شہید ہو چکے ہیں،لاپتا ہیں یا پھر حوثی ملیشیا اور علی عبداللہ صالح کے انتقام کا نشانہ بن گئے ہیں''۔انھوں نے کہا کہ یمنی حکومت کو عوام کے مصائب کا ادراک ہے اور وہ ان کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

سعودی عرب کے حمایت یافتہ یمنی فوجیوں اور جنوبی مزاحمت سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے جمعرات کے روز حوثی ملیشیا کو عدن کے دو بڑے علاقوں سے لڑائی کے بعد نکال باہر کیا تھا جس کے بعد عدن کے شہری اس فتح کی خوشی منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

یمنی حکومت کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے آنے والے تربیت یافتہ فوجیوں نے عدن کے تجارتی مرکز کریٹر اور دوسرے علاقے معلا کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ اس وقت ان علاقوں کی شاہراہوں پر فوج کی بکتربند گاڑیاں گشت کررہی ہیں اور مقامی ملیشیا کے جنگجو چیک پوائنٹ بنا رہے ہیں۔

ایک سینیر فوجی عہدے دار نے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا اور ان کے اتحادی چالیس سے زیادہ جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔عدن میں فوجی حکام لاؤڈ اسپیکروں سے اعلانات کررہے ہیں اور حوثی باغیوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ خود کو فوج کے حوالے کردیں۔

سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل احمد العسیری نے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے یمنی جنگجوؤں کی دلیرانہ پیش قدمی اور فتح کی تعریف کی ہے۔انھوں نے کہا کہ عدن سے حوثیوں کو نکال باہر کرنے کے لیے آپریشن ''سنہرا تیر'' اب تک کامیاب جارہا ہے۔

صدر منصور ہادی کے وفادار فوجی یونٹوں اور مسلح قبائل نے اسی ہفتے ''آپریشن سنہرا تیر'' کے نام سے حوثی ملیشیا اور ان کے اتحادیوں کے خلاف عدن میں نئی کارروائی کا آغاز کیا تھا اور انھوں نے گذشتہ چار ماہ میں پہلی مرتبہ حوثی باغیوں کو شہر سے پسپا کر دیا ہے۔