.

ٹینیسی حملہ آور کا عالمی دہشت گردوں سے تعلق نہیں تھا:ایف بی آئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے کہا ہے کہ اس کو ر یاست ٹینیسی میں دومقامات پر فائرنگ کرنے والے مشتبہ حملہ آور کے کسی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم سے تعلق کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

ایف بی آئی کے ٹینیسی میں اسپیشل ایجنٹ ایڈورڈ رینہولڈ نے نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ وہ دو فوجی تنصیبات پر فائرنگ کے واقعے کے محرکات کا ابھی تک جائزہ لے رہے ہیں۔اس حملے میں چار میرینز ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔امریکی حکام نے حملہ آور کی شناخت محمد یوسف عبدالعزیز کے نام سے کی ہے۔اس کو بھی بعد میں ہلاک کردیا گیا تھا۔

این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق چوبیس سالہ یوسف عبدالعزیز کویتی نژاد امریکی شہری تھا۔انتہا پسندوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے سائٹ انٹیلی جنس گروپ کے مطابق عبدالعزیز نے سوموار کو ایک بلاگ میں لکھا تھا کہ ''زندگی بہتر مختصر ہے اور مسلمانوں کو اللہ کے آگے جھکنے کے موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے''۔

نیویارک ٹائمز نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ''مشتبہ حملہ آور کا والد کئی سال قبل ایک غیرملکی دہشت گرد تنظیم سے تعلق کے شُبے میں زیر تفتیش رہا تھا اور اس کا نام دہشت گردوں کی واچ لسٹ میں شامل تھا۔

اس کے والد کا نام بعد میں اس فہرست سے حذف کردیا گیا تھا اور تحقیقات سے اس کے بیٹے کے بارے میں کوئی معلومات منکشف نہیں ہوئی تھیں۔عبدالعزیز نے چٹانوگا میں ایک ہائی اسکول میں تعلیم پائی تھی اور یونیورسٹی آف ٹینیسی سے انجنئیرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی۔

اس حملہ آور کو قریب سے جاننے والے لوگ ہکّا بکّا رہ گئے ہیں کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہے؟ہائی اسکول کے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں اس کے ساتھ کام کرنے والے اس کے ایک سابقہ ساتھی اٹھائیس سالہ گریگ ریمنڈ کا کہنا ہے کہ ''وہ بہت ہی تخلیقی تھا،وہ ایک شریف آدمی تھا اور اس کی تمام ویڈیوز ہمیشہ بہت ہی منفرد ہوتی تھیں۔وہ ہنسی مذاق بھی کرتا رہتا تھا اور وہ ایک عام آدمی ہی دکھتا تھا''۔

اس مشتبہ حملہ آور کے علاقے کی ایک تنظیم کی صدر میری ونٹر کا کہنا ہے کہ ''وہ عبدالعزیز اور اس کے خاندان کو گذشتہ دس سال سے جانتی تھیں اور وہ اس جرم پر حیرت زدہ رہ گئی ہیں کیونکہ اس نے کبھی کوئی گڑ بڑ نہیں کی تھی۔ہم یہ یقین نہیں کرسکتے کہ ایسا بھی ہوسکتا تھا''۔