.

ایرانی مہم جوئی سے نمٹنے کو تیار ہیں: سعودی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اقتصادی فوائد سے اپنے عوام کی مدد کرے اور اس سے خطے میں مہم جوئی نہ کرے۔

عادل الجبیر نے واشنگٹن میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ''اگر ایران خطے میں گڑ بڑ پھیلانے کی کوشش کرتا ہے تو ہم اس سے بھرپور طریقے سے نمٹیں گے''۔

انھوں نے ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازعے پر معاہدہ طے پانے کے دو روز بعد جان کیری سے ملاقات کی ہے اور ان سے اس معاہدے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے اور اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خطے میں ہم سب ایران کے جوہری پروگرام کا پُرامن حل چاہتے ہیں۔

سعودی وزیرخارجہ کا موقف تھا کہ ''معاہدے میں ایسا میکانزم ہونا چاہیے جس کے تحت ایران پر خلاف ورزی کی صورت میں فوری پابندیاں عاید کردی جائیں''۔ معاہدے کے تحت ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے سے اس بات کو یقینی بنایا جاسکے گا کہ آیا وہ شرائط وضوابط کی خلاف ورزی کا مرتکب تو نہیں ہورہا ہے۔

عادل الجبیر نے کہا:''ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ ایرانی اس ڈیل کو ایران میں اقتصادی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کریں گے،ایرانی عوام کی زندگیوں میں نمایاں بہتری لائیں گے اور اس کو خطے میں مہم جوئیوں کے لیے استعمال نہیں کریں گے''۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی عرب ممالک ایران اور چھے بڑے طاقتوں کے درمیان طے پائے معاہدے اور خاص طور پر امریکا کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات پر اپنی تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔سعودی عرب کے واشنگٹن میں سابق سفیر اور سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ بندر بن سلطان نے جمعرات کو ایک کالم میں خبردار کیا تھا کہ ایران سے نیو کلئیر ڈیل مشرق وسطیٰ میں تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

انھوں نے لکھا تھا کہ ''معاہدے کے تحت ایران کو اربوں ڈالرز تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔اس سے مشرق وسطیٰ میں تباہی آئے گی حالانکہ یہ خطہ پہلے ہی تباہ کن ماحول کا منظر پیش کررہا ہے اور ایران اس خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے میں ایک بڑے کھلاڑی کا کردار ادا کررہا ہے''۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان منگل کے روز ویانا میں طویل مذاکرات کے نتیجے میں جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔اس کے تحت ایران اپنا جوہری پروگرام رول بیک کردے گا۔اعلیٰ سطح کی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ضائع کردے گا اور اس کے بدلے میں اس پر عاید امریکا، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی پابندیاں ختم کردی جائیں گی۔معاہدے کے تحت ایران ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات تک رسائی دے گا تاکہ وہ اس امر کی تصدیق کرسکیں کہ آیا ایران خفیہ طور پر یورینیم کو افزودہ کرنے کی سرگرمیاں تو جاری نہیں رکھے ہوئے ہے۔