.

جوہری معاہدے کا مطلب ایران دوستی نہیں: کیمرون

"خطے کو جوہری ہتھیاروں کی دوڑ سے بچا لیا گیا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ چھ مغربی ملکوں کا ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ کسی قسم کا سمجھوتا نہ ہونے سے بہتر ہے تاہم اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم تہران کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ڈیوڈ کیمرون نے "العربیہ" کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی سمجھوتے کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے دور کر دیا گیا ہے۔ اب خطے میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی دوڑ ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ عالمی برادری کے پاس اس معاہدے کا کوئی اور متبادل آپشن نہیں تھا۔ میزے نزدیک معاہدہ نہ ہونے سے اس کا طے پانا زیادہ بہتر ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ معاہدے کے بعد ایران کو عالمی دہارے میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا ہے۔ مستقبل میں ایران کو علاقائی تنازعات کے حل میں ایک شریک کار کے طور پر ڈیل کیا جائے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ایران کو مکمل طور پر جوہری صلاحیت سے محروم نہیں کیا گیا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے ذریعے ایران کو نہ صرف 10 سال کے لیے جوہری توانائی کے حصول سے روک دیا گیا ہے، بلکہ اگلے مراحل میں اسے مستقل بنیادوں پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا ہو گا۔ انہوں نے ایران سے معاہدے کو خطے کے دوسرے ملکوں کے لیے بھی "خوش آئند" قرار دیا اور کہا کہ معاہدہ طے پانے کے بعد ہمیں ایران کے حوالے سے بعض معاملات کو فراموش کر دینا چاہیے اور تہران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ ہمارے خلیجی اتحادی اس معاہدے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ برطانیہ اور عالمی برادری ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم خلیجی ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے حامی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ایران دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی شورش میں کئی ایسے گروپ سرگرم ہیں جن کی ایران مالی معاونت کرتا ہے۔ ہمارا پہلا قدم ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا تھا۔ دوسرے مرحلے میں ہم ایران کو خطے کے مسائل کے حل میں ایک شریک کار کے طور پر استعمال کریں گے اور خطے کے بارے میں ایرانی پالیسی کو بدلنے کی مساعی جاری رکھیں گے۔

جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا راستہ بند

ایک سوال کے جواب میں برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کا معاہدہ اہمیت کا حامل ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ برطانیہ نے امریکا، جرمنی، فرانس، روس اور چین جیسے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر تہران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کا معاہدہ کیا ہے اور ایران کے لیے مہلک اسلحے کے حصول کا راستہ بند کر دیا ہے۔ یہ بات خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی خوش آئند ہے کیونکہ اس معاہدے سے علاقائی استحکام میں مدد ملے گی۔ ہم آج بھی ایران کی پالیسیوں کے خلاف ہیں اور مستقبل میں بھی تہران کی مخالفت جاری رکھیں گے۔ شام میں بشارالاسد کی حکومت کی مدد ایران کا ایک غیر آئینی اقدام ہے کیونکہ صدر اسد اقتدار میں رہنے کا حق کھوہ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے ملک میں "داعش" جیسے گروپوں کو پھلنے بھولنے کا موقع فراہم کیا۔ ایران کی اسد نواز پالیسی کی وجہ سے ہم تہران کو مسلسل تنقید کا نشانہ بناتے رہیں گے۔

حصول اسلحہ کی دوڑ کا خاتمہ

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر معاہدہ طے نہ پاتا تو خطے میں جوہری ہتھیاروں کے حصول کی ایک نئی دوڑ شروع ہو جانا تھی۔ ہر ملک اپنے وسائل کو بھاری اور تباہ کن ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے حصول پر لگانا شروع کر دیتا لیکن معاہدے نے علاقے میں تباہ کن اسلحے کے حصول کے دوڑ کے سامنے بھی بند باندھ دیا ہے۔ ہمیں ایران کی جوہری صلاحیت صرف توانائی کی ضرورت تک قبول ہے۔اگر ایران جوہری توانائی کو ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کرتا ہے تو یہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہو گی.