.

سعودی عرب میں داعش کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب

سیکڑوں گرفتار جنگجو مساجد میں دھماکوں کا منصوبہ بنا رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی سکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف شہروں میں چھاپے مار کر عراق اور شام کے وسیع تر علاقوں پر قابض عسکریت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ المعروف داعش کے 430 سے زائد مشتبہ شدت پسندوں اور ان کے حامیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں سعودی شہریوں کے علاوہ مصری، یمنی، اردنی، الجزائری۔ نائیجرین اور چاڈ کے باشندے شامل تھے۔

ان گرفتاریوں کی سعودی وزارت داخلہ نے ہفتہ کے روز تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار شدگان کی تعداد 431 ہے اور ان پر شبہ ہے کہ وہ خلیج کی عرب مملکت میں داعش یا آئی ایس کے شدت پسندوں کے چھوٹے چھوٹے خفیہ گروپوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

ریاض میں سعودی وزارت داخلہ کے مطابق ان مشتبہ عسکریت پسندوں کے جو منصوبے ناکام بنا دیے گئے، ان کے تحت وہ مختلف مساجد، سکیورٹی فورسز کی تنصیبات اور ایک سفارتی مشن کو خود کش حملوں کا نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق: ’’اب تک گرفتار کیے جانے والے اسلامک اسٹیٹ کے مشتبہ عسکریت پسندوں کی تعداد 431 ہے۔ ان میں سے اکثر سعودی شہری ہیں جبکہ کئی گرفتار شدگان غیر ملکی شہریت کے حامل ہیں۔‘‘

خبر رساں ادارے کے مطابق: ’’ان مشتبہ ملزمان کے وہ منصوبے ناکام بنا دیے گئے جن کے تحت وہ ملک کے مشرقی صوبے میں ہر جمعے کے روز کسی نہ کسی مسجد پر مسلسل چھ ہفتوں تک خود کش بم حملے کرنا چاہتے تھے۔ ساتھ ہی ان کا یہ منصوبہ بھی تھا کہ ایسے ہر خود کش حملے کے وقت اہم سکیورٹی اہلکاروں کو بھی نشانہ بنا کر ہلاک کیا جائے۔‘‘

سعودی پریس ایجنسی نے وزارت داخلہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا، ’’ان مشتبہ شدت پسندوں کے چھوٹے چھوٹے گروپوں کے جو منصوبے ناکام بنا دیے گئے، ان میں یہ بھی شامل تھا کہ صوبے شرورة میں حکومتی اور سکیورٹی تنصیبات کے ساتھ ساتھ ایک سفارتی مشن کو بھی نشانہ بنایا جائے اور کم از کم چھ مساجد پر خود کش حملے کیے جائیں۔‘‘

اسلامک اسٹیٹ کی طرف سے اپنے عسکریت پسند حامیوں سے یہ کہا جا چکا ہے کہ وہ سعودی عرب میں زیادہ سے زیادہ مسلح حملے کریں۔ اس کے بعد مئی میں مشرقی سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کی مساجد پر دو خود کش بم حملوں میں 25 افراد مارے گئے تھے۔

اس کے علاوہ جون کے مہینے میں بھی ایک سعودی شہری نے، جسے اس کے کئی دیگر انتہا پسند ہم وطن افراد کی مدد حاصل رہی تھی، خود کو ایک شیعہ مسجد میں دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ اس خود کش بم حملے میں 27 نمازی ہلاک ہوئے تھے۔