.

نو آموز 'داعشی' شدت پسند پاسپورٹ کے حصول سے گریزاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے سیکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ حالیہ ایام میں دہشت گردی کے بعض واقعات میں ملوث "داعش" سے وابستہ سعودی شدت پسندوں نے پاسپورٹ کے حصول سے گریز کی پالیسی اپنائی ہے۔ اندرون اور بیرون حملوں میں ملوث جن دہشت گردوں کے نام سامنے آئے ہیں ان کا سعودی ایمیگریشن میں کوئی ریکارڈ نہیں ہے اور نہ ہی انہوں نے پاسپورٹس کے حصول کے لیے کوئی درخواست دی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دہشت گردی میں ملوث ایسے دو داعشی جنگجوئوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ان میں ایک کا نام "فہد القباع" ہے جس کے بعد نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے بیٹے نے اس سے قبل کبھی بھی بیرون ملک سفر نہیں کیا اور نہ ہی بیرون ملک سفر کے لیے اس نے پاسپورٹ بنوایا ہے۔

یاد رہے کہ فہد القباع کو پچھلے ماہ کویت میں اہل تشیع کی ایک مسجد میں خود کش حملے کا ملزم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ موجودہے کہ اگر فہد نے پاسپورٹ حاصل نہیں کیا تھا تو وہ کویت پہنچا کیسے؟۔ اس کے والد کا دعویٰ ہے کہ اس کا بیٹا کبھی گھر سے باہر دور رہا ہی نہیں ہے۔ اس لیے کویت کی کسی مسجد میں اس کا حملہ کرنا اس کے لیے ناقابل یقین ہے۔

سعودی وزارت داخلہ نے ریاض میں خود حملے میں ملوث کم سن داعشی دہشت گرد عبداللہ الرشید کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ بھی بیرون ملک نہیں گیا ہےکیونکہ اس کا پاسپورٹ آفس میں کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ "داعش" نے اپنے جنگجوئوں کے پاسپورٹس کے استعمال سے گریز پرمبنی پالیسی اپنائی ہے۔ خاص طورپرسعودی عرب کے اندر حملے کرنے والے دہشت گردوں کو ان کی کم عمری، کم تعلیم اور بعض کے مذہبی رحجان کی بناء پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

آن لائن دہشت گردوں کی ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ داعشی عناصر سعودی عرب کے اندر مزید حملوں کے لیے کم عمر لڑکوں کو استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ سعودی عرب کے دہشت گردوں کے ساتھ رابطوں کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال سب سے زیادہ کیا جا رہا ہے۔

مملکت میں ایسے ہزاروں کی تعداد میں جعلی ناموں کے ساتھ "ٹیوٹر" اکائونٹ موجود ہیں جنہیں گمراہ کن نظریات کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہ صیام میں سائبرسیکیورٹی حکام نے ان میں سے کچھ اکائونٹس بلاک بھی کیے ہیں، لیکن دیکھا گیا ہے کہ دہشت گرد نئے ناموں کے ساتھ سامنے آ جاتے ہیں۔