.

امن سمجھوتے کے باوجود خامنہ ای کی امریکا کو دھمکیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ جوہری تنازع پر عالمی طاقتوں سے معاہدے کے باوجود امریکا کے بارے میں ان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی گی۔ خطے میں ایران اپنے حیلفوں کی مدد جاری رکھے گا اور ساتھ ہی ساتھ امریکا جیسے متکبر ممالک کا ہرمیدان میں خم ٹھونک کرمقابلہ کرے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سپریم لیڈر نے ان خیالات کا اظہار تہران میں منعقدہ عیدالفطر کے حوالے سے ایک تقریب سے خطاب میں کیا۔ تقریب میں حسب معمول "امریکا بردہ باد"، شیطان مردہ باد، "ایران خطے کے اپنے حلیفوں کی مدد سے دستبردار نہیں ہو گا" کے نعرے لگائے گئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں سے معاہدے کے باوجود ان کے ملک کی امریکا کے بارے میں پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ وہ جنگ نہیں چاہتے مگر امریکا کے ساتھ جنگ کرنا پڑی تو شرمناک شکست امریکیوں کا مقدر ٹھہرے گی۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ امریکی قیادت ایران کو اپنے سامنے جھکانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی مسائل اور غیر معمولی نوعیت کے جوہری تنازع پر امریکا کے ساتھ بات چیت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ نیز یہ کہ اسلام جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور انہیں ذخیرہ کرنے کو حرام قراردیتا ہے۔ تاہم ایران کسی صورت میں بھی انقلابی اصولوں کو معطل کرنے اور دفاعی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دے گا۔