.

ایران ڈیل: نیتن یاہو کی خود کو ہلاک کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو ایران کے ساتھ جوہری تنازعے پر ڈیل کی مخالفت کرتے چلے آرہے تھے لیکن ان کی کسی نے نہیں سنی اور ایران کا عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پاگیا۔اب انھوں نے اس کی مخالفت کا ایک نیا انداز اختیار کیا ہے اور انھوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی کانگریس نے اس کی منظوری دے دی تو وہ بطور احتجاج خود کو ہلاک کر لیں گے۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز نے اسرائیلی وزیراعظم کے ایک ترجمان کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کے نزدیک جوہری ڈیل طے پانے سے صہیونی ریاست کی سکیورٹی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔اس لیے اب وہ امریکی کانگریس میں اس ڈیل کی توثیق کو روکنے کے لیے خود کو ہلاک کرنے کی دھمکی رہے ہیں اور انھوں نے ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹ ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ہی صدر براک اوباما کے خلاف ووٹ دیں اور ری پبلکن ارکان کے ساتھ مل جائیں۔

نیتن یاہو شروع ہی سے چھے بڑی طاقتوں کے ایران کے ساتھ معاہدے کی مخالفت کررہے ہیں اور انھوں نے نومبر 2013ء میں طرفین کے درمیان عبوری سمجھوتے کو ایک تاریخی غلطی قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔اسرائیل ماضی میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی بھی دھمکیاں دے چکا ہے۔

گذشتہ منگل کو ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان ویانا میں جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد ایک مرتبہ پھر انھوں نے اس کو ''دنیا کی ایک تاریخی غلطی'' قرار دیا تھا۔انھوں نے ڈچ وزیرخارجہ برٹ کوئندرس کے ساتھ ملاقات سے قبل کہا کہ ''ایران کو جوہری صلاحیت سے روکنے سے متعلق ہر شعبے میں بڑے بڑے سمجھوتے کیے گئے ہیں''۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی کانگریس اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی واویلا کیا تھا لیکن ان کی کسی نے نہیں سنی اور وہ ڈیل کو رکوانے میں ناکام رہے ہیں۔انھوں نے ان دونوں کے ارکان کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ لوگ ''مرگ بر امریکا'' کے نعرے لگانے والوں کو مزید رعایتیں دینے سے روکنے میں ناکام رہے ہیں''۔ انھوں نے کہا کہ ''ایران سیکڑوں ارب ڈالرز حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا اور اس کو اپنی دہشت گرد مشین کا ایندھن بنائے گا''۔

درایں اثناء اسرائیلی نائب وزیرخارجہ زیپی حوتویلی نے مغربی طاقتوں پر ایران کے آگے جھکنے کا الزام عاید کیا ہے۔انھوں نے ٹویٹر پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ اسرائیل معاہدے کی توثیق کو رکوانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان ڈیل کے بعد یہ پہلا ردعمل ہے۔