.

جان کیری: خامنہ ای کی ''پریشان کن'' تقریر کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حالیہ امریکا مخالف ریمارکس کو پریشان کن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا انتہاپسندی سے نمٹنے کے بارے میں غیر سنجیدہ نہیں ہے۔

انھوں نے یہ بات العربیہ نیوز چینل کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے اس انٹرویو میں ایرانی سپریم لیڈر کی ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے پانے کے چار روز بعد تقریر کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہفتے کی شب ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی تقریر میں کہا تھا کہ ان کا ملک عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پانے کے باوجود مقہور فلسطینی قوم ،یمن ،شام ،عراق اور بحرین سمیت اپنے علاقائی دوستوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

جان کیری نے العربیہ نیوز سے انٹرویو میں کہا کہ وہ ان کومنٹس کو حقائق کے طور پر لے رہے ہیں۔انھوں نے کہا:''میں نہیں جانتا کہ اس مرحلے پر اس تقریر کی کیسے تشریح کی جائے سوائے اس کے کہ اس کا بظاہر مفہوم دیکھا جائے اور وہ یہ کہ یہ ان (خامنہ ای ) کی پالیسی ہے مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ بالعموم اس طرح کے تبصرے کیے جاتے ہیں لیکن چیزیں ان سے مختلف بھی ہوسکتی ہیں۔اگر یہ ان کی پالیسی ہے تو یہ بہت ہی پریشان کن ہے اور ہمیں انتظار کرنا اور دیکھنا ہوگا''۔

امریکی وزیرخارجہ اگست کے اوائل میں خلیجی ممالک کے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں جہاں وہ اپنے اتحادی لیڈروں کے ساتھ ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے کیونکہ وہ اس جوہری معاہدے کے ایران کو جوہری ہتھیار کی تیاری سے روکنے کی صلاحیت کے حوالے سے اپنے شکوک کا اظہار کررہے ہیں۔

خلیجی حکام ایران پر اپنے گماشتہ گروپوں کے ذریعے یمن ،لبنان ،عراق اور شام کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔جان کیری نے کہا کہ ان کی خلیجی ہم منصبوں سے ملاقات اس بات کی مظہر ہوگی کہ امریکا خطے کی سلامتی کی ضمانت دینے پر خصوصی توجہ مرکوز کررہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم اس وقت بالکل بھی غیر سنجیدہ نہیں ہوتے ہیں ،جب ہم انتہا پسندوں کو پیچھے دھکیلنے،دہشت گردی کی حمایت کے خلاف اور دوسرے ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے گماشتہ گروپوں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔یہ سب ناقابل قبول ہیں''۔

ایک محفوظ خلیجی خطہ

ان سے جب سوال کیا گیا کہ ان کی اس آیندہ ملاقات میں کس موضوع پر گفتگو رہے گی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ جوہری سمجھوتے کی تمام تفصیل کے حوالے سے گفتگو کریں گے جس سے کہ خلیجی ریاستیں اور پورا خطہ محفوظ بن جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ '' میں ان سے امریکا کے مجوزہ اقدامات کے حوالےسے بھی تبادلہ خیال کروں گا،اس کے علاوہ دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے انسداد دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کے حوالے سے بھی بات کروں گا''۔

انٹرویو کے دوران جان کیری نے ایران کے ساتھ جوہری ڈیل سے متعلق امریکا کے خلیجی اتحادیوں کی تشویش و تحفظات کو تسلیم کیا ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ تہران کے جوہری پروگرام پر قدغنوں کے لیے یہ ڈیل ایک اہم قدم ہے۔

انھوں نے کہا:'' کہیں سے تو آغاز کرنا ہوتا ہے۔ہم نے سب سے مشکل جگہ یعنی اسرائیل ،خطے اور جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ دوڑ سے آغاز کیا ہے مگر ہم نے دہشت گردی ،شرپسندانہ سرگرمیوں اور خاص طور پر گماشتہ گروپوں پر اپنی توجہ کو ختم نہیں کیا ہے۔ہمارے خیال میں ان گماشتہ گروپوں سے معاملہ کرنے کے لیے خطے کو ابھی بہت کچھ کرنا ہوگا۔اس لیے ان موضوعات پر نہ صرف میری ملاقات میں تفصیل سے گفتگو ہوگی بلکہ آیندہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ بات ہوتی رہے گی''۔

ایران کا فوجی بجٹ

امریکی حکام کے مطابق معاہدے کی شرائط کے تحت ایران کو بہت جلد بیرون ملک اپنے ایک سو ارب ڈالرز سے زیادہ کے منجمد اثاثوں تک رسائی حاصل ہوجائے گی اور یہ رقم اس کی سالانہ مجموعی قومی پیداوار کے ایک چوتھائی کے برابر ہے۔

جان کیری نے کہا کہ رقم کے ان اعداد پر کان کھڑے کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ خلیجی ریاستیں ایران سے کہیں زیادہ دفاعی بجٹ مختص کرتی ہیں۔انھوں نے کہا:''خطے میں ہر سال جو کچھ خرچ کیا جاتا ہے،اس کے مقابلے میں ایک سو ارب ڈالرز کی کچھ اہمیت نہیں ہے۔ایران کا فوجی بجٹ پندرہ ارب ڈالرز ہے جبکہ خلیجی ریاستوں کا بجٹ ایک سو تیس ارب ڈالرز سالانہ ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہمارے فوجی اور انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق اگر وہ اجتماعی طور پر درست انداز میں خود کو منظم کریں،تو تمام عرب ریاستوں میں اتنا پوٹینشل ہے کہ وہ مذکورہ سرگرمیوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں''۔

العربیہ نے جب ان سے پوچھا کہ کیا ایران روایتی ہتھیاروں کے ذریعے خلیجی اتحادیوں کے لیے خطرے کا موجب بن سکتا ہے تو جان کیری نے کہا کہ ''یقیناً خطے میں بہت سے روایتی ہتھیار موجود ہیں بلکہ مجھے یقین ہے کہ درست کوششوں کے ذریعے ہم ایسا مختلف انتظام کرسکتے ہیں جس سے لوگوں کو یہ اطمینان دلایا جا سکتا ہے کہ انھیں خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور انھیں اس خوف میں بھی مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ معاہدہ بہ ذات خود ہی سب کچھ تبدیل کرنے جارہا ہے''۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''سمجھوتے سے جوہری ہتھیار کی تیاری کے ممکنہ خطرے کا خاتمہ ہوگا لیکن اگر ہم دوسرے تمام شعبوں میں درست سمت میں اقدامات کرتے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ خلیجی ریاستیں اور پورا خطہ آج سے زیادہ محفوظ ہوسکتا ہے۔ہمیں ان تمام گماشتہ گروپوں کو ختم کرنا ہوگا اور ایسا کرنے کے بہت سے طریقے ہیں''۔

ان سے العربیہ نے سوال کیا کہ کیا معاہدہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ایران مستقبل میں اپنی جوہری خواہشات کو عملی جامہ نہیں پہنائے گا؟اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ''ایران کہتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا لیکن الفاظ اور بیانات کی کچھ اہمیت نہیں ہے بلکہ یہ اقدامات ہیں جن سے اس کے ارادوں کو جانچا جائے گا۔میں جو بات جانتا ہوں ،وہ یہ کہ معاہدے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے معائنے اور احتساب کے لیے اقدامات وضع کیے گئے ہیں اور یہ پندرہ یا بیس سال کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہیں''۔

یمن بحران کا سیاسی حل

یمن میں جاری بحران کے بارے میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا کہ اس ملک کے متحارب گروہوں کو سیاسی حل کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔ہم ہادی حکومت پر زور دے رہے ہیں اور ہم اپنے دوستوں کے ذریعے حوثیوں پر بھی زوردے چکے ہیں کہ وہ جلد سے جلد مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی کوشش کریں۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''آخری موقع پر جب ہم نے جنگ بندی کی کوشش کی تو حوثیوں نے اس کی پاسداری نہیں کی تھی۔انھوں نے لوگوں کو ادھر ادھر کیا ،حملے کیے،انھوں نے مختلف اقدامات کیے اور اس طرح انھوں نے لوگوں کو بہت سے ایسی وجوہ پیش کردیں کہ وہ ان کے ارادوں کے بارے میں شکوک کا اظہار کریں۔یقیناً بحران کا سیاسی حل ہی بہتر ہوگا لیکن آپ کو لوگوں کو اس بات پر آمادہ کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات کی میز پر مل بیٹھیں اور مذاکرات کریں''۔