.

پتھرمار فلسطینیوں کے لیے 20 سال قید کا ظالمانہ قانون منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی پارلیمان نے گاڑیوں اور سڑکوں پر پتھر پھینکے والے فلسطینیوں کو بیس سال تک قید کی سزا دینے کے لیے ظالمانہ قانون کی منظوری دے دی ہے۔ایک فلسطینی عہدے دار نے اس اقدام کو نسل پرستانہ اور جابرانہ قرار دیا ہے۔

اسرائیلی پارلیمان کے انہتر ارکان نے سوموار کی شب اس قانون کے حق میں ووٹ دیا ہے اور سترہ نے اس کی مخالفت کی ہے۔پارلیمان نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں گذشتہ سال فلسطینی مظاہرین کی جانب سے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی چیرہ دستیوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران پتھراؤ کے واقعات کے بعد اس قانون کی منظوری دی ہے۔

اسرائیل کی دائیں بازو کی جماعت وزیرانصاف عیلٹ شیکڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''دہشت گردوں کے بارے میں آج رواداری ختم ہوگئی ہے۔پتھر پھینکنے والا ایک دہشت گرد ہے اور جس سزا کا وہ حق دار ہے،اس کے ذریعے ہی اس کو روکا جاسکتا ہے''۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے بے مہابا استعمال پر تنقید کا نشانہ بناتی رہتی ہیں۔مظاہروں کے دوران اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے سیکڑوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔

اس نئے قانون کے تحت گاڑی کے سوار کو نقصان پہنچانے کی غرض سے پتھر پھینکنے والے کو بیس سال قید کی سزا سنائی جاسکے گی اور اگر یہ ثابت نہ ہو کہ پتھراؤ کا مقصد جانی نقصان نہیں پہنچانا تھا تو پھر ذمے دار کو دس سال تک قید کی سزا سنائی جاسکے گی۔

اس سے پہلے قانون کے تحت پراسیکیوٹر پتھر پھینکنے والے فلسطینی مظاہرین کے لیے تین ماہ کی سزا دینے کا مطالبہ کرتے تھے۔

فلسطینی قیدی کلب کے سربراہ قدرہ فارس نے اس نئے قانون کو نسل پرستانہ اور نفرت انگیز قرار دیا ہے اور اس کو جُرم کے مقابلے میں سزا کے بنیادی اصول کے منافی قرار دیا ہے۔

اس قانون کا مقبوضہ بیت المقدس سمیت اسرائیلی عمل داری والے علاقے میں اطلاق ہوگا۔تاہم اس کا مقبوضہ مغربی کنارے میں اطلاق نہیں ہوگا۔اسرائیلی الکنیست کے مطابق عدالتیں ہر سال پتھر پھینکنے والے قریباً ایک ہزار فلسطینیوں کو سزائیں سناتی ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے فلسطینی سرزمین پر ظالمانہ قبضے کے خلاف 1980ء اور 1990ء کے عشرے کے اوائل میں پہلی انتفاضہ تحریک سے پتھراؤ مزاحمت کی علامت ہے۔فلسطینی نوجوان آئے دن مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فورسز کی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف احتجاج کے دوران پتھراؤ کرتے ہیں اور بالعموم اس کے بعد ان کی اسرائیلی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوجاتی ہیں اور قابض فوجی بالعموم فلسطینیوں کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کردیتے ہیں۔