.

یورپی یونین نے ایران سے معاہدے کی توثیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایران اور مغرب کے درمیان طے پائے معاہدے کی منظوری سے قبل یورپی یونین نے بھی اس معاہدے کی توثیق کردی ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے تہران اور گروپ چھ کے درمیان معاہدے کی منظوری کے بعد ایران پرعائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا نقطہ آغاز ہوگیا۔ یورپی یونین کی جانب سے معاہدے کی توثیق امریکی کانگریس کے لیے بھی ایک واضح اشارہ ہےجو ابھی تک اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مبصرین کا خیال ہے کہ یورپی یونین اور سلامتی کونسل کی جانب سے ایران کے متنازع جوہری پروگرام پرمعاہدے کے بعد امریکی کانگریس کے شکوک وشبہات زیادہ اہمیت کے حامل نہیں رہے ہیں۔ اگرچہ کانگریس اور اسرائیل کی جانب سے مضبوط مزاحمت اب بھی تہران اور مغرب کے درمیان مشکلات کھڑی کرتے رہیں گے تاہم یورپ کے فیصلے کے بعد خود کانگریس اور اسرائیل کی "ہٹ دھرمی" پر مبنی پالیسی پر ایک کاری ضرب لگی ہے۔

گذشتہ روز برسلز میں یورپی وزراء خارجہ کے اجلاس میں ایران اور گروپ چھ کے درمیان طے پائے معاہدے کی منظوری دی گئی۔ وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران سے امن معاہدے کے علاوہ دنیا کے پاس اور کوئی آپشن نہیں ہے۔ تنازع کا اس سے بہتر حل نہیں ہو سکتا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ لوزان فائبوس نے کہا کہ ایران سے معاہدہ ایک متوازن فیصلہ ہے۔ اس معاہدے سے ہم نے ایران کو جوہری بم بنانے سے روک دیا۔ یہ ایک بہت بڑی سیاسی ڈیل ہے"۔

یورپی یونین کی جانب سے معاہدے کی حمایت کے بعد سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں ایران سے سمجھوتے کی توثیق کر دی گئی ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے معاہدے کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ کی ایران پرعاید اقتصادی پابندیاں بتدتریج اٹھنا شروع ہو جائیں گی۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے ایران کے بیلسٹک میزائل سسٹم پر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث کچھ پابندیاں برقرار رہیں گی۔ ایک مغربی سفارت کار کہنا ہے کہ ایران پرعاید پابندیوں کے اٹھائے جانے کا معاملہ تہران کی جانب سے کی گئی یقین دہانیوں کے پرعمل درآمد کے مطابق ہو گا۔ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش ترک کرنے کے وعدے کا عملی ثبوت مہیا کرنا پڑے گا۔

سفارت کار کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین چاہتی ہے کہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام عالمی تعاون کے دھارے میں تبدیل کردیا جائے۔
ادھر گذشتہ روز امریکی کانگریس میں بھی ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان ویانا میں طے پائے معاہدے کا بل پیش کر دیا گیا ہے۔ کانگریس 60 دن میں بل کی توثیق یا اسے مسترد کرنے کا فیصلہ کرے گی۔