.

جدہ: امریکی وزیر دفاع کی شاہ سلمان سے ملاقات

ایران کے 6 بڑی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیردفاع آشٹن کارٹر نے سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ہے اور ان سے ایران کے ساتھ حال ہی میں طے پائے جوہری معاہدے، امریکا اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ مشرقِ وسطیٰ کے خطے کے دورے پر ہیں اور وہ امریکا کے اتحادیوں کو ایران اور چھے بڑے طاقتوں کے درمیان گذشتہ ہفتے طویل مذاکرات کے نتیجے میں طے پائے جوہری معاہدے کے بارے میں اعتماد میں لینے اور ان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ایش کارٹر نے شاہ سلمان سے ملاقات کے دوران انھیں امریکی صدر براک اوباما کا نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا ہے اور انھوں نے سعودی مملکت اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا ہے۔

انھوں نے اس بات پر زوردیا ہے کہ امریکا خطے میں امن اور استحکام میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ملاقات میں سعودی ولی عہد ،نائب وزیراعظم اور وزیرداخلہ شہزادہ محمد بن نایف اور نائب ولی عہد اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز بھی موجود تھے۔

ایش کارٹر اردن سے سعودی عرب پہنچے تھے اور وہ شاہ سلمان سے ملاقات کے بعد سہ پہر کے وقت واپس عمان روانہ ہونے والے تھے۔انھوں نے منگل کو انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے مقبوضہ بیت المقدس میں ملاقات کی تھی اور ان سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔

نیتن یاہو اس معاہدے کی سخت مخالفت کررہے ہیں اور انھوں نے یہ پیشین گوئی بھی کردی ہے کہ اس سے خطے مِیں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجائے گی۔انھوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ اس ڈیل سے ایرانی جارحیت کے لیے مالی مدد حاصل ہوگی۔

دوسری جانب سعودی عرب بھی اس خدشے کا اظہار کررہا ہے کہ اس کا علاقائی حریف ایران اس معاہدے کے تحت اپنے جوہری پروگرام پر تحدیدات کے باوجود ایک جوہری بم تیار کرسکتا ہے۔ان دونوں ممالک کے علاوہ ایران کی ہمسایہ خلیجی ریاستیں بھی ان خدشات کا اظہار کررہی ہیں کہ معاہدے سے تہران کے لیڈروں کو تقویت ملے گی۔وہ ان پر عراق ،شام ،لبنان اور یمن میں کھلم کھلا دخل اندازی کے الزامات عاید کررہے ہیں۔

ایش کارٹرنے امریکا کے مشرقِ وسطیٰ میں ان روایتی اتحادیوں کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے ان کے ساتھ فوجی تعاون کو بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے۔