.

امریکی وزیر دفاع اچانک دورے پر عراق پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وزیر دفاع آشٹن کارٹر جمعرات کے روز غیر علانیہ پر عراق پہنچے جہاں انہوں نے عراقی قیادت سے ملاقات کی۔ عراقی حکام اسی سال مئی میں رمادی شہر کا کںڑول داعش سے واپس لینے کے بعد سے انتہا پسند تنظیم کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کرنے میں مصروف ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کارٹر نے اسی سال کے اوائل یعنی فروری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد عراق کا پہلا دورہ کیا تھا، جس میں انہوں نے عندیہ ظاہر کیا تھا کہ وہ عراقی حکام اور امریکی کمانڈروں سے بات کرنے کے بعد ملک میں جاری شورش کا براہ راست تجزیہ کرنا چاہیں گے۔

امریکی وزیر دفاع عراق کے حوالے سے اپنے ملک کی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی کا اعلان نہیں کرنے والے اور نہ ہی وہ عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق کوئی بات کریں گے۔

عراق کے اندر تقریباً 3360 فوجی عراقیوں کی تربیت، مقامی کمانڈروں کو جنگی منصوبوں اور امریکی اہلکاروں اور تنصیبات کی سیکیورٹی جیسے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

مختلف اتحادیوں کے ساتھ ملکر امریکا روزانہ عراق کے طول و عرض میں داعش کے اہداف پر فضائی حملے بھی کرنے میں مصروف ہیں۔