.

اوباما، ایردوآن کا داعش کے خلاف مزید تعاون پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدارتی دفتر وائٹ ہائوس کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن سے فون پر رابطہ کیا اور عراق، شام میں جاری تنازعات اور دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' کے خلاف جاری لڑائی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

وائٹ ہائوس کا کہنا تھا کہ خطے میں سیکیورٹی کا معاملہ امریکا کی اولین ترجیح ہے اور صدر اوباما نے ترکی کے ساتھ متعدد شعبوں میں تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔

وائٹ ہائوس کے بیان میں بتایا گیا "دونوں رہنمائوں نے داعش کے خلاف جنگ میں جاری تعاون میں مزید وسعت، عراق میں سلامتی اور تحفظ اور شام میں جاری تنازعے کے سیاسی حل کے لئے مزید اقدامات کرنے کا ایادہ کیا۔"

اوباما نے ترکی میں ہونے والے حالیہ حملوں میں ہونیوالی ہلاکتوں پر دکھ کا اظہار کیا۔ ترکی کے شام سے ملحقہ قصبے سورج میں داعش نے خودکش حملہ کیا جس کے نتیجے میں 32 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ حملہ 2013ء کے بعد ہونیوالا سب سے بڑا حملہ تھا جس کے رد عمل کے طور پر کرد فوجی گروپ نے ترک پولیس پر حملہ کیا اور دو پولیس اہلکار ہلاک کردئیے۔

بیان میں بتایا گیا کہ اوباما نے امریکی عوام کی طرف سے متاثرین کے خاندانوں کو تعزیت کا پیغام بھیجا اور دونوں رہنمائوں نے ایک بار پھر اس عہد کی تجدید کی کہ امریکا اور ترکی دونوں دہشت گردی کے خلاف شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔"

بیان کے مطابق دونوں رہنمائوں نے غیر ملکی جنگجوئوں کے عراق اور شام میں داخلے کی کوششوں کو روکنے کے لئے اقدامات اٹھائیں گے اور ترکی کی سرحدوں کو محفوظ بنائیں گے۔