.

سپین میں داعش کا خواتین ریکروٹ ایجنٹ گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سپین کی وزارتِ داخلہ نے ایک مُشتبہ شدت پسند کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر خواتین کو "داعش میں بھرتی کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مشتبہ شدت پسند کو میڈریڈ پولیس اور مراکشی حکام نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران جنوبی مراکش کے جیب ملیلیہ نامی صحرائی علاقے سے منگل اور بدھ کی درمیانی شب گرفتار کیا۔

حراست میں لیے گئے عسکریت پسند کے بارے میں پتا چلا ہے کہ وہ افریقی ممالک کی خواتین کو ورغلا کر شام اور عراق میں سرگرم دولت اسلامی "داعش" میں شامل کرنے کی سازشوں میں مصروف تھا۔

ہسپانوی پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے شخص کی عمر 29 برس اور تعلق مراکشی شہر جیب ملیلیہ سے ہے۔ اس پر شدت پسندانہ خیالات رکھنے کی وجہ سے پہلے بھی مقدمات درج ہیں۔ اس کے قبضے سے خواتین کو "داعش" میں بھرتی کرنے سے متعلق لٹریچر بھی برآمد ہوا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کی ایک فہرست جن سے اس کا رابطہ تھا اور وہ انہیں "داعش" میں بھرتی ہونے کے لیے قائل کرنے کی کو مصروف تھا بھی ملی ہے۔

شدت پسند کےقبضے سے دہشت گردی کی حمایت پر مبنی ریکارڈ تقاریر بھی ملی ہیں جن میں "نفاذ شریعت" کی حمایت اور"خلافت کے سوا تمام نظاموں کو باطل" قرار دیا گیا ہے۔

ہسپانونی پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے ملک سے داعش کی صفوں میں شامل ہونے والے لوگوں کی تعداد 116 تک جا پہنچی ہے تاہم یہ تعداد بھی برطانیہ، فرانس اور دوسرے مغربی ملکوں کے "داعش" میں شامل ہونے والے باشندوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔