.

ترکی: کرد اکثریتی علاقے میں کار بم دھماکا، دو فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے جنوب مشرق میں واقع کرد اکثریتی علاقے میں فوجیوں کے ایک قافلے پر کار بم حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں دو فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

صوبہ دیاربکیر کے گورنر نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ یہ واقعہ ضلع لیچ میں ایک شاہراہ پر پیش آیا ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔البتہ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے ) نے شمالی عراق میں اپنے ٹھکانوں پر ترک فضائیہ کی حالیہ بمباری کے بعد جنگ بندی توڑنے اور ترک فورسز پر حملوں کی دھمکی دی تھی۔

ترکی نے گذشتہ ہفتے سرحدی قصبے سوروچ میں بم دھماکے کے بعد کرد جنگجوؤں اور دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے اور اس کے لڑاکا طیاروں نے عراق کے شمالی علاقوں میں پی کے کے کے جنگجوؤں کے علاوہ شام میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکا شام میں داعش کے خلاف جنگ میں کرد جنگجوؤں پر انحصار کررہا ہے۔اس نے کرد جنگجوؤں کے ترکی میں حملوں کی مذمت کی ہے۔ایک سینیر امریکی سفارت کار اور داعش مخالف اتحاد کے لیے خصوصی صدارتی ایلچی بریٹ میکگرک نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ترکی کے''پی کے کے'' کے خلاف فضائی حملوں اور داعش کے خلاف جنگ کو تیز کرنے کے لیے ترکی اور امریکا کے درمیان تعاون کے سمجھوتے میں کوئی تعلق نہیں ہے۔

مزید برآں وائٹ ہاؤس نے ترکی کی جانب سے داعش کے خلاف جنگ میں یکسوئی اختیار کرنے کا خیرمقدم کیا ہے اور ترکی میں کرد جنگجو گروپ پی کے کے کے دہشت گردی کے حالیہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔امریکا نے پی کے کے کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار قرار دے رکھا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ایلسٹیئر باسکے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی کو کرد باغیوں کے دہشت گردی کے حملوں کے خلاف دفاع کا حق حاصل ہے۔انھوں نے کہا کہ پی کے کے کو دہشت گردی کی مذمت کرنی چاہیے اور ترک حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ بحال کرنا چاہیے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں کو تشدد سے گریز کرنا چاہیے۔

درایں اثناء شامی صدر بشارالاسد کے اتحادی ایران نے ترکی کے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے ردعمل میں کہا ہے کہ ''دہشت گردی'' کے خلاف جنگ میں قومی خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم سے جب اس حوالے سے تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے ''دہشت گردی کے خلاف تمام کارروائیاں عالمی قوانین اور ریاستوں کی عالمی خودمختاری کے احترام کے تحت ہونی چاہئیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ایسا کوئی بھی اقدام جس سے قومی حکومتیں کمزور ہوں،اس سے دہشت گرد گروپوں کی مجرمانہ کارروائیوں کے لیے حوصلہ افزائی ہوگی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے۔ واضح رہے کہ ایران صدر بشارالاسد کا سب سے بڑا پشتی بان ملک ہے اور وہ ان کے خلاف سنہ 2011ء کے وسط میں مسلح بغاوت کے آغاز سے ہی ان کی حکومت کی سیاسی ،مالی اور فوجی مدد کر رہا ہے۔