.

خامنہ ای کے ٹویٹر اکائونٹ پر اوباما کی خودکشی!

اوباما کے 'لیکن' اور 'اگر مگر' پر تہران کا منفرد ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور امریکا کے درمیان تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر طے پائے معاہدے کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان سرد جنگ کسی نہ کسی شکل میں جارہی ہے۔ اس سرد جنگ کا اندازہ دونوں ملکوں کے ذرائع ابلاغ بالخصوص سوشل میڈیا سے بھی ہو رہا ہے۔ حال ہی میں ایران کے رہ بر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ "ٹویٹر" پر صدر براک اوباما کے مشابہ ایک شخص کی تصویر پوسٹ کی ہے جس میں اُنہیں اپنی ہی پستول سے خودکشی کرتے دکھایا گیا ہے۔ مبینہ طور پر خود کشی کرتے دکھائے گئے شخص کے سینے پر امریکی پرچم لپیٹ رکھا ہے۔

تصویر پوسٹ کیے جانے کے بعد اس کے نیچے امریکی صدر براک اوباما کے 18 جولائی کو ایک تقریر کے کچھ الفاظ بھی درج ہیں۔ صدراوباما کہتے ہیں"ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی صلاحیت کے باوجود ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی جنگ میں پہل کریں گے "لیکن۔۔۔" خامنہ ای کے ٹیوٹر اکائونٹ پر پوسٹ تصویر کے ساتھ "لیکن" کے لفظ پر خاص طور پر زور دیا گیا ہے۔ "لیکن" اور "اگرمگر" کہہ کراوباما گویا یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن موجود ہے۔ رہ براعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امریکی خیال کو بھی خود کشی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے تصویر میں اوباما کو اپنے ہی پستول سے خود کشی کی کوشش کرتے دکھایا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے نام سے یہ اکائونٹ @Khamenni_ir کے عنوان سے قائم ہے جس کے ایک لاکھ 41 ہزار فالورز ہیں۔ خامنہ ای کا انگریزی کے علاوہ فارسی میں بھی ایک اکائونٹ موجود ہے مگر ان دونوں میں ان کی تصویر موجود نہیں۔

اوباما کی خود کشی والی تصویر پوسٹ کیے جانے کے 10 گھنٹے بعد اسے 742 بار "ری ٹویٹ" کیا گیا ہے جب کہ 271 افراد نے تصویر کو"لائیک" کیا ہے۔