.

امریکا اور ترکی کا شام میں داعش فری زون پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور ترکی نے شام کے شمالی علاقوں سے سخت گیر گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

امریکا کے ایک سینیر عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ''ہمارا مقصد داعش سے پاک زون کا قیام ہے اور ترکی کی شام کے ساتھ سرحد پر زیادہ سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانا ہے''۔

اس اعلیٰ امریکی عہدے دار نے صدر براک اوباما کے ایتھوپیا کے دورے کے موقع پر یہ بات کہی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس زون کی ابھی تفصیل طے کی جائے گی لیکن ترکی کے ساتھ داعش مخالف مشترکہ فوجی کوششوں میں نوفلائی زون کا قیام شامل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ترکی ایک عرصے سے شام کے شمال میں نوفلائی زون کے قیام پر اصرار کرتا چلا آرہا ہے۔تاہم اس امریکی عہدے دار کے مطابق ترکی شام میں داعش کے خلاف لڑنے والے امریکا کے شراکت داروں کی حمایت کرے گا۔

امریکی اور ترک حکام کے درمیان یہ اتفاق رائے گذشتہ ہفتے ترکی کے سرحدی علاقوں میں تشدد کے خونریز واقعات کے بعد سامنے آیا ہے۔ترک حکام نے علاحدگی پسند کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) اور داعش کے جنگجوؤں پر ان تباہ کن بم حملوں کے الزامات عاید کیے ہیں۔ترکی کے شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے سوروچ میں خودکش بم دھماکے میں بتیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ایک اور سرحدی قصبے میں کار بم دھماکے میں دو ترک فوجی مارے گئے تھے۔

ترک فوج نے ان حملوں کے ردعمل میں شام میں داعش اور شمالی عراق میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔امریکا نے سرکاری طور پر ترک فوج کی اس کارروائی کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہے۔

لیکن امریکی حکام درپردہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ شمالی عراق میں ترک لڑاکا طیاروں کی مسلسل بمباری سے عراق کے خود مختار علاقے کردستان کی علاقائی حکومت کے ساتھ تنازعہ پیدا ہوسکتا ہے۔اس کے تحت کرد جنگجو شمالی عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ترکی اور شام کے درمیان نو سو کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ترک پولیس شام میں قریباً چار سال قبل خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے اس سرحد کو بمشکل کنٹرول کرسکی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ ترکی ماضی میں انتہا پسند جنگجوؤں کے جوابی حملوں کے خوف سے سرحد پر سختی کرنے میں متردد رہا ہے لیکن اب اس نے پہلی مرتبہ داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کردیے ہیں۔