.

ترکی: داعش اور کردوں کے خلاف کریک ڈاؤن ،900 گرفتاریاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک پولیس نے دولتِ اسلامیہ عراق وشام (داعش) اور کرد جنگجوؤں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران سوموار کو علی الصباح مزید بیسیوں مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

سی این این ترک کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کرد جنگجوؤں اور داعش کے خلاف کریک ڈاؤن میں نو سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ترک فوج نے شام میں داعش کے ٹھکانوں اورشمالی عراق میں کردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

ترک میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پولیس کے قریباً پانچ سو پولیس اہلکاروں نے دارالحکومت انقرہ کے علاقے حاجی بیرم میں علی الصباح کارروائی کے دوران داعش کے پندرہ مشتبہ ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔ان میں گیارہ غیرملکی ہیں۔

جنوب مشرقی شہر ادیامان میں کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے تعلق رکھنے والے انیس افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ترک حکومت اور پی کے کے کے درمیان سنہ 2012ء میں امن مذاکرات کا عمل شروع ہوا تھا لیکن اب ترک فوج کے شمالی عراق میں پی کے کے کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے بعد یہ مذاکراتی عمل ختم ہوگیا ہے۔پی کے کے کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کے بعد اب امن عمل بے مقصد ہو کر رہ گیا ہے۔

پی کے کے نے شمالی عراق میں اپنے ٹھکانوں پر ترک فضائیہ کی حالیہ بمباری کے بعد جنگ بندی توڑنے اور ترک فورسز پر حملوں کی دھمکی دی تھی۔ پی کے کے کے شامی کردوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور امریکا شام میں داعش کے خلاف جنگ میں کرد جنگجوؤں پر انحصار کررہا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اگلے روز کہا ہے کہ ان کی حکومت نے داعش کے خلاف لڑائی میں ''پہلا قدم'' اٹھا دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ''دہشت گرد گروپ'' اپنے ہتھیار ڈال دیں ورنہ نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔

ان کا اشارہ ترکی میں داعش اور کرد جنگجوؤًں کے خلاف کریک ڈاؤن اور شام کے شمالی صوبے حلب میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی جانب تھا۔ترکی کے ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے حلب میں واقع ایک گاؤں حوار میں داعش کے تین اہداف پر بمباری کی تھی اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا ہے۔