.

ترکی نے شام میں کرد اکثریتی گاؤں پر بمباری کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے شام کی کرد ملیشیا (پیپلز پروٹیکشن یونٹس) کے اس دعوے کی تردید کردی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ترک فوج نے شام کے ایک شمالی گاؤں میں اس کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

کردملیشیا نے قبل ازیں سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ترک فوج نے داعش کے زیر قبضہ قصبے جرابلس کے نواح میں واقع گاؤں زورمغار میں اس کے ٹھکانوں کو توپ خانے سے بمباری میں نشانہ بنایا ہے۔

لیکن ترک حکومت کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ ترک فوج شامی کردوں کو اپنے حملوں میں ہدف نہیں بنا رہی ہے بلکہ اس جاری کارروائی کا مقصد ترکی کی قومی سلامتی کو درپیش خطرے کا خاتمہ ہے اور اس کے تحت شام میں داعش اورشمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی(پی کے کے) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شامی کرد ملیشیا پی وائی جی سمیت دوسروں کے خلاف بالکل بھی فوجی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔قبل ازیں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس (پی وائی جی) نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ترک فوج کے ٹینکوں نے صوبہ حلب میں واقع گاؤں زور مغار میں اس کے اور اس کے عرب اتحادیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''زور مغار اور اسی علاقے میں ایک اور گاؤں پر یہ دوسری مرتبہ گولہ باری کی گئی ہے۔یہ جارحیت ہے اور اس کو روکا جانا چاہیے۔اس بھاری گولہ باری میں کرد ملیشیا کی اتحادی فورسز کے چار ارکان اور متعدد دیہاتی زخمی ہوگئے ہیں''۔

ترک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ''ہم ترک فوج کے داعش کے علاوہ دوسری فورسز کے ٹھکانوں پر ممکنہ حملوں کے دعووں کی تحقیقات کررہے ہیں''۔

ترکی نے گذشتہ ہفتے اپنے ایک سرحدی قصبے سوروچ میں خودکش بم دھماکے میں بتیس افراد کی ہلاکت کے بعد کرد جنگجوؤں اور داعش کے خلاف دو جہت سرحد پار فضائی مہم شروع کررکھی ہے۔اس کے تحت ان دونوں جنگجو گروپوں کے شمالی عراق اور شام میں واقع ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے جارہے ہیں اور توپ خانے سے گولہ باری کی جارہی ہے۔ نیز ترکی میں ان دونوں گروپوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور اب تک نو سو سے زیادہ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔