.

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ترکی کے ساتھ ہیں: نیٹو

کرد جنگجوؤں سے امن عمل جاری رکھنا اب ممکن نہیں رہا ہے: ترک صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے کہا ہے کہ ان کا فوجی اتحاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے اتحادی ترکی کے ساتھ کھڑا ہے۔

انھوں نے یہ بات منگل کے روز برسلز میں ترکی کی درخواست پر منعقدہ نیٹو کے اجلاس میں کہی ہے۔انھوں نے اپنی افتتاحی تقریر میں ترکی میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں انسانی جانوں کے ضیاع پر ترک حکومت اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کو کسی بھی شکل میں ہرگز بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا اور نہ اس کا کوئی جواز پیش کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم بروقت اور مناسب موقع پر آج یہ اجلاس منعقد کررہے ہیں تاکہ ترکی اور نیٹو کی سرحدوں پر عدم استحکام کے مسئلے سے نمٹا جاسکے۔نیٹو(علاقے میں ہونے والی) پیش رفت کا گہری نظر سے جائزہ لے رہی ہے اور ہم اپنے اتحادی ملک ترکی کے ساتھ کھڑے ہیں''۔

قبل ازیں ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اس توقع کا اظہار کیا کہ نیٹو اتحاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کے ملک کی حمایت کرے گا۔انھوں نے چین کے سرکاری دورے پر روانہ ہونے سے قبل نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی قدم پیچھے نہیں ہٹایا جائے گا۔یہ ایک عمل ہے اور یہ اسی عزم کے ساتھ جاری رہے گا''۔

ترک صدر نے صحافیوں سے گفتگو میں مزید کہا ہے کہ ''ہمارے قومی اتحاد اور بھائی چارے کے لیے خطرے کا موجب کرد جنگجوؤں کے ساتھ امن عمل کو جاری رکھنا اب ممکن نہیں رہا ہے اور جن سیاست دانوں کے بھی ''دہشت گرد گروپوں'' کے ساتھ تعلقات ہیں،انھیں مقدمات سے حاصل استثںیٰ ختم کردیا جائے گا''۔

ان کا کہنا تھا کہ شام کے شمالی علاقے میں ایک محفوظ زون کے قیام سے ترکی میں مقیم قریباً سترہ لاکھ شامی مہاجرین کی واپسی کی راہ ہموار ہو سکے گی۔واضح رہے کہ امریکا اور ترکی اس وقت داعش سے پاک اس محفوظ زون کے قیام کے لیے بات چیت کررہے ہیں۔گذشتہ روز ایک امریکی عہدے دار نے کہا تھا کہ دونوں ملکوں نے اس محفوظ علاقے کے قیام سے اتفاق کیا ہے۔