.

"مصری فن کارہ کو حسن البناء کے حکم پر قتل کیا گیا"

اخوان کے سابق رہ نما کا دستاویزی فلم میں دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں اخوان المسلمون کے ایک سابق رہ نما ثروت الخرباوی نے الزام عاید کیا ہے کہ فن کارہ اسمھان کے قتل کا حکم جماعت کے بانی حسن البناء کی جانب سے جاری کیا گیا تھا اور ان کے حکم کے تحت اسمھان کو ٹریفک حادثے میں ہلاک کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس بات کا انکشاف حال ہی میں "خفیہ تنظیم" کے عنوان سے نشر ہونے والی ایک دستاویزی فلم میں کیا گیا۔ دستاویزی فلم میں ثروت الخرباوی کا بیان شامل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسمہان کے قتل کا حکم حسن البناء کی جانب سے دیا گیا تھا۔

مسٹر خرباوی کاکہنا ہے کہ حسن البناء اور اخوان کی مرکزی قیادت نے اسمہان کو کافرہ قراردیتے ہوئے ملک دُشمنی پر مبنی سرگرمیوں بالخصوص رقص وموسیقی کی وجہ سے اس کا قتل جائز قراردیا تھا۔

فلم میں سابق فن کارہ آنجہانی اسمہان کے ٹریفک حادثے میں ہلاک ہونے سے قبل کے واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ ٹریفک حادثے میں ہلاکت سے قبل بتایا گیا ہے کہ اسمہان کی آنکھ صبح پانچ بجے کھلی۔ اس نے اپنے ڈرائیور کو ایک ریلوے اسٹیشن سیٹ بک کرانے کے لیے بھیجا۔ وہ کئی ماہ کے مسلسل کام کی تھکاوٹ کے بعد کچھ دنوں کے لیے "راس البر" کے مقام پر آرام کرنا چاہتی تھیں۔

ڈرائیور واپس آیا اور کہا کہ متعلقہ روٹ کی تمام سیٹیں پہلے پُر ہوچکی ہیں۔ اس پر اسمہان نے ڈرائیور سے کہا کہ "پھر ہمیں کار ہی کے ذریعے چلنا چاہیے۔" ڈرائیور نے جواب دیا کہ کار بھی لمبے سفرکے قابل نہیں ہے۔ اس پر وہ غصے میں آگئیں اور ڈرائیور پر برہمی کے بعد فن کار یوسف وھبی کو ٹیلیفون کیا اوران سے گاڑی مانگی۔ انہوں نے مصر کے اسٹوڈیو کی گاڑی انہیں بھیج دی۔

خرباوی کا کہنا ہے کہ اس وقت اخوان المسلمون نے اپنا ایک ڈرائیور مصری اسٹوڈیو میں شامل کررکھا تھا جو مختلف فن کاروں کو دور دراز کے سفر پر لے جاتا۔ اس ڈرائیورنے یہ موقع غنیمت جانا۔ حسن البناء کے ایک قریبی شخص نے بھی ڈرائیور سے رابطہ کر کے اسے اسمہان کے ساتھ جانے کی تاکید کی اور اخوان المسلمون کے مرشد عام کی ہدایت پر عمل درآمد کا حکم دیا۔

ڈرائیورنے حسن البنا کی ہدایت کے مطابق عمل کرتے ہوئے کار کو حادثے سے دوچار کیا۔ جب وہ طلخا اور دمیاط کے درمیان ایک مقام پر پہنچے کار حادثے کا شکار ہوگئی۔ اس موقع پر ڈرائیور بچ گیا مگر اسمہان اور اس کی ایک سہیلی ماری قلادہ بھی ہلاک ہوگئی تھیں۔