.

داعش کے خلاف ترکی کی کارروائی حق بجانب ہے: شاہ سلمان

سعودی فرمانروا کا ترک صدر کو فون، بھرپورحمایت کی یقین دہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں خطرناک عسکریت پسند گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام "داعش" کے خلاف ترکی کی تازہ کارروائی پر امریکا اور یورپی یونین کے بعد سعودی عرب نے بھی کھل کر ترکی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ "داعش" کے خلاف ترکی کی فوجی کارروائی حق بہ جانب ہے اور ریاض اس آپریشن میں انقرہ کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق شاہ سلمان نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کو ٹیلیفون کر کے انہیں اپنی جانب سے داعش کے خلاف جاری آپریشن میں حمایت کا یقین دلایا۔ دونوں رہ نمائوں کے درمیان بات چیت میں خطے کی موجودہ مجموعی صورت حال پربھی تبادلہ خیال ہوا۔

ذرائع کے مطابق ٹیلیفون پر بات چیت کے دوران ترک صدر نے 'داعش' کے خلاف فوجی کارروائی کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کوپوری قوت سے لڑنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

سعودی فرمانروا نے حالیہ دنوں میں ترکی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ترک حکومت کو دہشت گردوں کی سرکوبی اور ملک وقوم کے دفاع کا حق حاصل ہے۔ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں سعودی عرب ترکی کے ساتھ کھڑا ہے۔ شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ ترکی پر حملوں میں ملوث 'داعش' سمیت تمام دہشت گرد گروپ صرف ترکی ہی نہیں بلکہ پورے خطے اور دنیا کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ان کا خاتمہ ناگزیر ہوچکا ہے۔