.

یو این ایلچی پر رشوت وصولی کا ایرانی الزام مسترد

'وکی لیکس' اور ڈاکٹراحمد شہید نے ایران سے ثبوت مانگ لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی شہرت یافتہ ویب سائیٹ "وکی لیکس" نے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری اس خبر کو بے بنیاد قراردیاہے جس میں الزام عاید کیا گیا تھا کہ ایران میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مندوب ڈاکٹر احمد شہید نے کویت میں سعودی سفارت خانے سے رشوت وصول کی تھی۔ دوسری جانب ڈاکٹر شہید نے بھی ایرانی خبر رساں ایجنسی کا الزام من گھڑت قراردیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے ایرانی ذرائع ابلاغ سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان کے پاس رشوت وصولی کا ثبوت موجود ہے تو اسے منظرعام پر لایا جائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "وکی لیکس" نے اپنے 'ٹویٹر' اکائونٹ پر پوسٹ ایک بیان میں "یو این" کے انسانی حقوق مندوب پرعاید الزام کے شواہد سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے پاس جو دستاویزی ثبوت موجود ہے اسے سامنے لایا جائے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا کے دعوے کے رد عمل میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے انسانی حقوق ڈاکٹر احمد شہید نے "بی بی سی" فارسی ریڈٰیو سے بات کرتے ہوئے رشوت وصولی کےالزامات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی خبر رساں اداروں کی جانب سے رشوت وصولی کی من گھڑت افواہ کے لیے وکی لیکس کا حوالہ دیا گیا تھا لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ وکی لیکس نے بھی اسے جھوٹ قراردیتے ہوئے متعلق دستاویز کا "لنک" شائع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مسٹر شہید کا کہنا تھا کہ ایرانی خبر رساں ایجنسی نے جس دستاویزی ثبوت کا حوالہ دیا ہے۔ عملا اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ تاہم جس رقم کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کو ایران میں انسانی حقوق سے متعلق رپورٹس کی تیاری کے لیے دی گئی تھی۔ اس کا میری ذات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی خبر رساں اداروں کی جانب سے حال ہی میں 'وکی لیکس' کے حوالے سے ایک جعلی دستاویز شائع کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کے مندوب نے کویت میں سعودی سفارت خانے سے ایک ملین ڈالر رقم وصول کی تھی جس کے بدلے میں ایران میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا واویلا کرنا تھا۔ وکی لیکس نے ایسے کسی بھی خفیہ برقیے کی موجودگی یا اس کے بارے میں معلومات سے انکار کیا ہے۔