.

تہران میں مسجد کی مسماری غیر اسلامی طرز عمل ہے: مریم رجوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حال ہی میں دارالحکومت تہران کی بلدیہ میں واقع اہل سُنت کی اکلوتی مسجد کو شہید کیے جانے کے واقعے کے بعد اندرون اور بیرون ملک سے اس پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ ایران میں ولایت فقیہ پر مشتمل سیاسی ومذہبی نظام حکومت کی سخت مخالف تنظیم "مجاھدین خلق" کی خاتون سربراہ مریم رجوی نے مسجد کی مسماری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے 'غیر اسلامی' طرز عمل قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں مریم رجوی کا کہنا تھا کہ "تہران میں بونک کے مقام پر اہل سنت مسلک کی مسجد کو مسمار کرنا ایرانی حکومت کی مجرمانہ پالیسی، فرقہ واریت اور اہل سنت کے ساتھ نفرت کا واضح ثبوت ہے۔ یہ کیسے مذہبی ہیں جو اپنے مزاروں کو بھی کعبے کا درجہ دیتے ہیں اور مخالف مسلک کی ایک مسجد بھی انہیں برداشت نہیں ہے۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایرانی حکومت تمام مذاہب اور مسالک کے پیروکاروں کو مذہبی آزادی فراہم کرنے کی دعوے دار ہے تو اسے اہل سنت سے نفرت کیوں ہے اور مساجد کو کیوں کر مسمار کیا جا رہا ہے؟

مریم رجوی نے عالمی برادری، یورپی یونین، امریکا اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ آزادی اظہار رائے کی خاطر ایران میں مساجد کی شہادت کے خلاف آواز اٹھائیں اور ایرانی حکومت کو اہل سنت مسلک کو دیوار سے لگانے کی پالیسیاں بند کرائیں۔

خیال رہے کہ ایران کی بلدیہ کے زیر اہتمام 29 جولائی کو علی الصباح ایک کارروائی میں ایرانی پولیس اور بلدیہ اہلکاروں نے بونک کے مقام پر واقع جامع مسجد شہید کردی تھی۔ یہ مسجد ماضی میں بھی ایرانی حکومت کی انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرتی رہی ہے اور متعدد بار اس میں سنی مسلمانوں کے نماز ادا کرنے پر پابندی عاید کی جاتی رہی ہے۔

اس کارروائی کے رد عمل میں مریم رجوی کا کہنا تھا "ایران میں شیعہ ملائوں کی حکومت اہل سنت مسلک کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کررہی ہے۔ یہ ایک جابرانہ اور ظالمانہ پالیسی ہے جس کےتحت ملک سے اہل سنت کا نام ونشان مٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔"

واضح رہے کہ مجاھدین خلق ایران کی اندرون اور بیرون ملک ایک بڑی جماعت سمجھی جاتی ہے جو ایران میں ولایت فقیہ کی سخت ناقد ہے۔ ایران میں اس تنظیم پر سنہ 1985ء کے بعد سے پابندی عاید ہے اور اس سے وابستہ بیشتر افراد کو قتل یا گرفتار کیا جا چکا ہے۔ مریم رجوی خود فرانس میں جلا وطنی کی زندگی گذار رہی ہیں۔