.

بن لادن خاندان کا تیسراالمناک فضائی حادثہ!

مسلسل حادثات اور اہم شخصیات کی موت پرعوام دُکھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جُمعہ کے روز برطانیہ میں ایک پرائیوٹ طیارہ حادثے کا شکار ہوا جس میں ایک اُردنی اور تین سعودی شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ فضائی حادثات کی تاریخ میں یہ کوئی قابل ذکرسانحہ ہو نہ ہو مگر سعودی عرب کے شُہرت یافتہ ارب پتی بن لادن خاندان کی تاریخ کا یہ تیسرا المناک حادثہ ہے کیونکہ اس سے قبل بھی دو ایسے ہی حادثات میں بن لادن فیملی کے اہم افراد لُقمہ اجل بن چکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بن لادن خاندان کے ساتھ پیش آئے ان تین فضائی سانحات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز برطانیہ میں ایک ہوائی اڈے کے قریب گر کر تباہ ہونے والے پرائیوٹ طیارے میں القاعدہ کے بانی رہ نما مقتول اسامہ بن لادن کی ایک سوتیلی ہمیشرہ سناء محمد بن لادن، ان کے شوہر ڈاکٹر زھیر ہاشم، سوتیلی ماں رجاء ہاشم اور اردن سے تعلق رکھنے والے ہواباز مازن عقیل الدعجہ شامل ہیں۔

برطانیہ کے "بلیک بش" نامی ہوائی اڈے کے قریب حادثے کا شکار ہونے والا بدقسمت جہاز اٹلی کے "میلان مالپانسا'' ہوائی اڈے کے لئے محو پرواز ہوا اور کچھ ہی دیر بعد جنوبی انگلینڈ میں ہامشیر کے قریب کاروں کی بولی کے لئے استعمال ہونے والے ایک میدان میں گر کرتباہ ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق EMB-505 Phenom 300 نامی اس طیارے میں نو افراد کے سوار ہونے کی گنجائش ہے۔ اس وقت اس کی قیمت 85 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ طیارہ برطانیہ کے مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے بلیک بش ہوائی اڈے کی فضاء میں پہنچا لیکن وہ ہوائی اڈے کے رن وے پر اترنے کے بجائے کاروں کی بولی کے لیے مختص جگہ کی طرف پھسل گیا، جہاں وہ کاروں سے ٹکرا کردھماکے سے پھٹ گیا اور اس میں سوار چار افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

عینی شاہدین کے بیانات

برطانوی اخبار "ٹائمز" نے اپنی رپورٹ میں بن لادن خاندان کے حادثے کےشکار ہونے والے طیارے کے حادثے کےوقت عینی شاہدین کے کچھ بیانات نقل کیے ہیں۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک دھماکے کی آواز کے ساتھ جہاز کے انجنوں کی گرجدار آوازیں سنیں۔ زور دار آوازوں کے ساتھ ہم نے طیارے کوہوائی اڈے کی بیرونی دیوار کے اوپر سے کاروں کی نیلامی کے لیے بنائے گئے پارک کی طرف اڑتے دیکھا۔ غالبا ہواباز جب طیارہ ہوائی اڈے کے رن وے پر اتارنے میں ناکام ہوا تو اس نے کار پارکنگ میں اسے اتارنے کی آخری کوشش کی لیکن وہاں پر کاروں کی بڑی تعداد نیلامی کے لیے پارک کی گئی تھی اور لوگ نیلامی شروع ہونے کا انتظار کررہے تھے۔ ہوائی اڈے کی دیوار سے آگے بڑھتے ہی طیارہ کاروں سے جا ٹکرایا۔ اس کےبعد جائے حادثہ پر دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ جہاز میں سوار دو افراد کی میتیں باہر پڑی تھیں جب کہ ایک جہاز کے اندر سے ملی ہے۔

یاد رہے کہ خوفناک حادثے کا شکار ہونے والا بدقسمت طیارہ برازیل کی "امپرائر" نامی طیارہ ساز کمپنی نے سنہ 2008ء میں تیار کیا تھا۔ اس کے بعد اسے 117 مرتبہ فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔ اس نوعیت کے ہلکے طیارے عموما ارب پتی تاجر اپنے سفر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک طیارہ "سیسنا" کے نام سے مشہور ہے۔ دو انجنوں والے اس طیارے کو سعودی عرب کی ایک نجی "سالم ایئرلائن" فرم نے سنہ 2010ء میں خرید کیا۔

ماضی کے فضائی حادثے

بن لادن فیملی کے تین اہم افراد کی برطانیہ میں طیارہ حادثے میں موت پہلا واقعہ نہیں بلکہ فضائی حادثات میں اموات اس خاندان کا مقدر دکھائی دیتی ہے۔ یہ اس نوعیت کا تیسرا حادثہ ہے جس میں تین جانیں چلی گئیں۔ اس سے قبل اسامہ خاندان کے جد امجد محمد بن عوض بن لادن سنہ 1967ء میں 59 برس کی عمرمیں طائف کے قریب ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ انہوں نے کل 22 خواتین کے ساتھ شادیاں کیں جن سے اسامہ بن لادن، سالم، یسلم، یحیٰ، علی، سعدی سمیت 55 بیٹے بیٹیاں ہوئیں۔ بن لادن خاندان کا یہ پہلا فضائی حادثہ تھا۔ دوسرا حادثہ امریکا میں سنہ 1988ء میں ہوتا ہے جس میں عوض بن لادن کے بڑے بیٹے سالم لقمہ اجل بنے۔ سعودی صحافی جہاد الخازن نے سنہ 1997ء میں اپنے ایک مضمون میں سالم کے بارے میں لکھا کہ وہ ہوائی جہازوں کے بہت شوقین تھے۔

ان کی طیاروں سے ہوس کی حد تک محبت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے امریکی ریاست ٹیکساس کے سان انٹونیو شہر کے کیٹی ہاک ہوائی اڈے پر ہوائی جہازوں کی نیلامی میں بھی حصہ لیا تھا۔ مگر وہ خود بھی امریکا ہی میں 30 مئی 1988ء کو اپنے والد کے ہیلی کاپٹر حادثے کے محض 22 برس بعد لقمہ اجل بن گئے۔ سالم کی برطانوی نژاد بیوہ کیرولین کاری شوہر کی وفات کے بعد [دیور] خالد بن لادن سے شادی کرلی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خالد بن لادن بھی ہوائی جہازوں کا رسیا تھا اور اس کا امریکا میں اپنا ایک چھوٹا ہوائی اڈا بھی ہے۔

بن لادن خاندان کے برطانیہ میں تیسرے فضائی سانحے پر سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر شہریوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ خاص طور پر اسامہ بن لادن کی سوتیلی ہمشیرہ سناء بن لادن کی موت پر لوگ صدمے سے دورچار ہیں۔ سناء بن لادن "یتیموں کی مامتا" کے لقب سے مشہور ہیں۔ انہوں نے اپنے سگے بھائی سعد بن لادن کے ساتھ مل کر یتیم بچوں کی کفالت کے کئی منصوبے شروع کر رکھے تھے اور ان کی دولت کا وافر حصہ غریبوں،بیوائوں اور یتیموں کے لیے وقف تھا۔