.

یو اے ای: خلافت کے داعی 41 افراد پر مقدمہ چلے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں اکتالیس افراد کے خلاف حکومت کا تختہ الٹنے اور داعش کی طرز پر خلافت قائم کرنے کے الزامات میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

یو اے ای میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت اتنے زیادہ افراد کے خلاف اپنی نوعیت کا یہ پہلا مقدمہ ہے۔ امارات کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ان مشتبہ افراد میں اماراتی شہریوں کے علاوہ غیرملکی شہری بھی شامل ہیں۔ان پر اقتدار پر قبضے اور خلافت کے قیام کے لیے ایک دہشت گرد تکفیری گروپ قائم کرنے کا الزام ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے مبینہ طور پر ایسے سیل بھی تشکیل دے رکھے تھے جہاں اس کے ارکان کو متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر حملوں کے لیے اسلحہ چلانے اور گولہ بارود تیار کرنے کی تربیت دی جاسکے۔

پراسیکیوٹر کے بہ قول انھوں نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے بیرون ملک دہشت گرد تنظیموں سے بھی روابط قائم کررکھے تھے۔

واضح رہے کہ یو اے ای امریکا کی قیادت میں دولت اسلامی عراق و شام (داعش) کے خلاف اتحاد میں شامل ہے۔اس اتحاد کے لڑاکا طیارے گذشتہ سال ستمبر سے شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے کررہا ہے۔گذشتہ ماہ اماراتی حکومت نے ایک نئے قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت تکفیری گروپوں کی رکنیت اختیار کرنے والوں کے خلاف قید کی مدت میں اضافہ کردیا گیا تھا اور انھیں سنگین جُرم کی صورت میں سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے۔

تکفیری اپنے جیسے عقائد کو نہ ماننے والے مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور ان کے نزدیک ایسے گم راہوں کی سزا موت ہے۔القاعدہ اور داعش کا یہی نظریہ ہے اور وہ اپنے نظریاتی مخالفین کو ٹھکانے لگانے میں کوئی عار نہیں سمجھتے ہیں۔