.

ملّا عمر کے خاندان کا نئے طالبان امیر کی بیعت سے انکار؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان طالبان کے مرحوم امیر ملّا محمد عمر کے خاندان نے مبینہ طور پر ان کے جانشین ملّا اختر محمد منصور کی بیعت سے انکار کردیا ہے اور مذہبی علماء پر زوردیا ہے کہ وہ مزاحمت کاروں کی صفوں میں موجود اختلافات کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

افغان طالبان نے گذشتہ جمعرات کو اپنے امیر ملّا محمد عمر کے انتقال کی تصدیق کی تھی لیکن انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی تھی کہ ان کا کب اور کہاں انتقال ہوا تھا۔البتہ یہ واضح کیا تھا کہ وہ ایک دن کے لیے بھی پاکستان گئے تھے اور نہ ان کی وہاں وفات ہوئی تھی۔طالبان نے افغان انٹیلی جنس کے اس دعوے کی تردید کی تھی کہ ان کے امیر کا پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں انتقال ہوا تھا۔

افغان طالبان نے اپنے امیر ملّا محمد عمر کے انتقال کی خبر کے ایک روز بعد ان کے نائب ملّا اختر محمد منصور کو اپنا نیا سربراہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔وہ اس سے قبل تحریک کے نائب سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔لیکن اطلاعات کے مطابق ان کی امارات کے اعلان کے ساتھ ہی ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ملّا عمر کے صاحبزادے ملّا یعقوب اور ان کے چھوٹے بھائی ملّا عبدالمنان بھی ان کے مخالفین میں شامل ہیں۔

ملّا عبدالمنان نے اتوار کو جاری کردہ ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ''ہمارے خاندان نے اختلافات کے پیش نظر کسی کی بیعت نہیں کی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ علماء کسی ایک فریق کی بیعت کا اعلان کرنے کے بجائے ان اختلافات کو ختم کرائیں''۔

تاہم انھوں نے اس پیغام میں ملّا اختر منصور کا نام نہیں لیا ہے۔ملّا اختر منصور نے طالبان کا امیر بننے کے بعد ہفتے کے روز اپنے پہلے آڈیو پیغام میں مزاحمتی تحریک کی صفوں میں اتحاد کی ضرورت پر زوردیا تھا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے طالبان ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ''ملّا یعقوب اور طالبان کی شوریٰ کونسل کے متعدد دوسرے ارکان بدھ کی رات اس اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے تھے جس میں ملّا اختر منصور کو نیا امیر منتخب کیا گیا تھا''۔

انھوں نے کہا کہ ''اختر منصور اور ان کے اتحادیوں کو اب بہت سے سوالوں کے جواب دینے کی ضرورت ہے۔انھوں نے ملّا عمر کی وفات کی خبر کو دو سال سے زیادہ عرصے تک کیوں چھپائے رکھا ہے؟وہ ان کے نام پر جعلی بیانات کے ذریعے کیا ہمیں دھوکا دے رہے تھے؟ اور کیا وہ ان کے نام پر اپنے مفاد کے لیے کام کررہے تھے؟

بہت سے طالبان کمانڈر افغان حکومت کے ساتھ براہ راست امن مذاکرات کی بھی مخالفت کررہے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید انھیں پاکستان کی جانب سے ایسا کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے کیونکہ سات جولائی کو مری میں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان پاکستان کی میزبانی ہی میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا۔

واضح رہے کہ ملّا اختر منصور اور ان کے حال ہی میں نامزد کردہ دونوں نائب امراء ہیبۃ اللہ اخونزادہ اور سراج الدین حقانی کو پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھا جاتا رہا ہے۔افغان طالبان کے نئے امیر امن مذاکرات کے حامی ہیں اور انھوں نے ملّا عمر کی وفات کے دنوں ہی میں مذاکرات کا ڈول ڈالا تھا تاکہ صورت حال سے فائدہ اٹھایا جاسکے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ملّا عمر کی وفات کی خبرعام ہونے سے ان کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

ملّا عمر کی وفات کی تصدیق کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات کا عمل بھی غیر یقینی کی صورت حال سے دوچار ہوگیا ہے اور پاکستان نے گذشتہ جمعہ کو مری میں ہونے والا مذاکرات کا دوسرا دور ملتوی کردیا تھا۔خود افغان طالبان نے اپنی ویب سائٹ پر انگریزی زبان میں پوسٹ کیے گئے بیان میں ان کے حوالے سے اپنے شُبے کا اظہار کیا تھا۔اس میں کہا گیا تھا:''میڈیا ذرائع ان رپورٹس کی تشہیر کررہے ہیں کہ امن مذاکرات بہت جلد چین یا پاکستان میں سے کسی ایک ملک میں ہوں گے لیکن ہمارا سیاسی دفتر اس طرح کے کسی عمل سے آگاہ نہیں ہے''۔