.

زنجبار میں صالح نواز فوجی بریگیڈ پر اتحادیوں کی بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب اتحادی فوج کے مسلسل فضائی حملوں نے علی عبداللہ صالح اور حوثی ملیشیا کی کمر توڑ دی ہے۔ حالیہ حملوں نے باغی ملیشیا کو بری فوجی شکست سے دوچار کیا ہے۔ اس بات کے ثبوت میدان جنگ بالخصوص اسٹرٹیجک اہمیت کے العند فوجی بیس کے مزاحمت کاروں کے کنڑول میں جانے کی صورت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

ادھر عوامی مزاحمت کاروں کے ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ زنجبار، وادی دووس اور 15 بریگیڈئر کے علاقے سے دسیوں کاریں اور فوج کے زیر استعمال گاڑیاں بڑے قافلے کی صورت میں متذکرہ علاقوں سے باہر جاتے دیکھی گئیں۔ اتحادی لڑاکا طیاروں کی شدید بمباری سے علاقے میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

درایں اثنا میڈیا ذرائع کا کہنا ہے ابین گورنری سے بھی باغی ملیشیا کے جنگجو علاقہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ جن علاقوں سے باغی جنگجو فرار اختیار کر رہے ہیں ان میں لودر ریجن کے شہر زنجبار، شقرہ اور الھضبہ الوسطہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

یمن حکومت کے ترجمان نے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ رنجبار کی جنگجووں کے قبضے سے آزادی اب نوشتہ دیوار ہے کیونکہ ابین میں سرکاری فوج کے حامی مزاحمتی جنگجووں نے نے باغیوں پر کاری ضرب لگائی ہے۔

مارب اور شبوہ کے علاقوں میں عوامی مزاحمت کاروں کو مضبوط بنانے کے لئے یمن کی دستوری حکومت کی حامی قومی فوج نے سعودی علاقے الشرورہ میں بری فوج کی صورت کی کمک پہنچائی ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے بھاری مشینری بشمول فوجی کریین کو العبر صحرا کی جانب الودیعہ گیٹ وے عبور کرتے ہوئے دیکھا۔

عدن سے ابین مزید فوجی ساز و سامان پہنچایا جا رہا ہے تاکہ مزاحمت کاروں کی ابین کو صالح نواز جنگجووں اور حوثی ملیشیا کے قبضے سے چھڑانے کے لئے پلان کی جانے والی فوجی کارروائی کو کامیاب بنایا جا سکے۔

یمنی فوج اور سول مزاحمت کاروں نے عدن اور ملک کے سب سے بڑے فوجی ایئر پورٹ پر قبضے کے بعد علی عبداللہ صالح اور حوثی باغیوں کا تعاقب جاری رکھا ہوا ہے۔

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کی سرکاری فوج نے لحج گورنری کے صدر مقام الحوطہ سے انخلاء کرنے والے باغیوں کا محاصرہ کر رکھا ہے، اس سے پہلے سرکاری فوج نے الحوطہ اور العند شاہراہ پر واقع وادی الحسینی کے علاقے کا کنڑول حاصل کیا۔

سول مزاحمت کاروں اور باغی ملیشیا کے درمیان تعز کی شمال مشرقی کالونیوں المرور اور حوض الاشراف میں شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں، جس میں باغیوں کے دو ٹینک تباہ اور متعدد ساتھی ہلاک ہوئے ہیں۔