.

فرانس کے ساحل سے لاپتہ ملائیشین طیارے کا ملبہ مل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائیشیا کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ ہفتے بحرِ ہند کے ایک جزیرے کے ساحل سے ملنے والا ملبے کا ٹکڑا 17 ماہ قبل لاپتا ہونے والے ملائیشین طیارے کا ہی ہے۔

ملائیشیا کے وزیرِاعظم نجیب رزاق نے اپنے ٹی وی بیان میں بتایا کہ بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم نے تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد تصدیق کی ہے کہ ری یونین نامی جزیرے کے ساحل سے 'بوئنگ 777' کے پر کا جو ٹکڑا ملا تھا وہ لاپتا پرواز 'ایم ایچ 370' کا ہی ہے۔

طیارے کے ملبے کا لگ بھگ دو میٹر طویل ٹکڑا اور کچھ دیگر سامان گزشتہ ہفتے مڈگاسکر کے نزدیک واقع جزیرے ری یونین کے ایک ساحل سے ملا تھا جسے تفصیلی معائنے کے لیے فرانس بھیجا گیا تھا۔

ملائیشین حکام کا کہنا ہے کہ طیارے کے ٹکڑے کا فرانس کی وزارتِ دفاع کے تحت کام کرنے والی اس عالمی شہرتِ یافتہ لیبارٹری میں تجزیہ کیا گیا جہاں طیارہ سازی کی صنعت کے 600 سے زائد ماہرین کام کرتے ہیں۔

فرانسیسی لیبارٹری میں کی جانے والی جانچ پڑتال میں ملائیشیا، امریکا، چین، فرانس اور بوئنگ کمپنی کے نمائندے بھی شریک ہوئے تھے۔

ماہرین کو امید ہے کہ ملبے کے تفصیلی معائنے سے فلائٹ 'ایم ایچ 370' کو پیش آنے والے حادثے کے بارے میں معلومات سامنے آ سکیں گی جو مارچ 2014ء میں کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے کھلے سمندر کے اوپر لاپتا ہو گئی تھی۔

لاپتا ہونے والا طیارہ 'بوئنگ 777' تھا جس پر 239 مسافر اور عملے کے افراد سوار تھے۔ کئی ملکوں کی ٹیمیں کئی ماہ تک سمندر میں لاپتا طیارے کے ملبے کی تلاش میں سرگرم رہی تھیں لیکن پر کا متذکرہ حصہ ملنے سے پہلے 16 ماہ تک کسی کے کچھ ہاتھ نہیں آیا تھا۔

ملائیشین طیارے کی گمشدگی کا معاملہ ہوابازی کی تاریخ کے چند سرِ فہرست لاینحل معموں میں شمار کیا جاتا ہے۔