.

امریکا، روس شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے پرمتفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاروف کے درمیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کرنے کے لیے ایک قرار داد پر اتفاق رائے طے پاگیا ہے جس کے تحت شام میں کیمیائی ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی۔

جان کیری نے ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں سرگئی لاروف سے ملاقات کے ایک روز بعد صحافیوں کو بتایا ہے کہ انھوں نے اقوام متحدہ کی قرارداد سے متعلق بات چیت کی ہے اور درحقیقت ان کے درمیان اس مجوزہ قرارداد پر سلامتی کونسل میں بہت جلد رائے شماری کے لیے سمجھوتا طے پا گیا ہے۔اس کے تحت شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے ذمے داروں کے احتساب کے لیے ایک میکانزم وضع کیا جائے گا کیونکہ اس سے پہلے ایسا کوئی میکانزم نہیں تھا۔

قبل ازیں جمعرات کو ایک امریکی عہدے دار نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ امریکا اور روس کے درمیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کرنے کے لیے قرارداد کے مسودے پر اتفاق ہوگیا ہے۔اس کے تحت شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کے ذمے داروں کی نشان دہی کی جاسکے گی تاکہ انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔

سلامتی کونسل میں تعینات دو سفارت کاروں نے بھی اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ بدھ کو قرارداد کا حتمی مسودہ تمام پندرہ رکن ممالک میں تقسیم کر دیا گیا تھا اور وہ جمعرات کی سہ پہر تک اس پر اپنے اعتراضات پیش کر سکتے تھے۔

ان میں سے ایک سفارت کار کا کہنا تھا کہ اگر قرارداد پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا تو اس کو جمعہ کی صبح رائے شماری کے لیے پیش کیا جاسکتا ہے۔اقوام متحدہ میں روسی مشن کے ترجمان الیکسی زیتسیف نے بھی کہا ہے کہ قرارداد پر تمام کام مکمل ہوچکا ہے اور توقع ہے کہ اس پر جمعہ کو رائے شماری ہوگی۔

روس اور امریکا کے درمیان شام میں گذشتہ چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے تو اب تک کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ انھوں نے جنگ زدہ ملک میں تباہ کن کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے اور اس کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے اتفاق کیا ہے۔

امریکا شام میں حالیہ مہینوں کے دوران کلورین گیس کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیش نظر اس کے ذمے داروں کے احتساب کے لیے سلامتی کونسل سے اقدام کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

قرارداد کے اس مجوزہ مسودے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم ( او پی سی ڈبلیو) کے ڈائریکٹر جنرل احمد عزمچو کے ساتھ رابطے کے ذریعے بیس روز کے اندر ان دونوں اداروں کا مشترکہ میکانزم وضع کرنے کے لیے اپنی سفارشات سلامتی کونسل کو پیش کریں۔

یہ تحقیقاتی مشن شام میں کلورین یا دوسرے خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کرکے اس کے ذمے داروں اور ان حملوں میں کسی بھی طرح ملوث افراد کی نشان دہی کرے گا۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیشتر رکن ممالک اس قرارداد کے ضمن میں امریکا کے حامی ہیں۔وہ شامی حکومت پر اپنے ہی شہریوں پر کلورین گیس کے حملوں کے الزامات عاید کررہے ہیں۔تاہم روس کا کہنا ہے کہ کسی بھی فریق پر الزام عاید کرنے سے پہلے ٹھوس شواہد فراہم کیے جانے چاہئیں۔

شام اور ہیگ میں قائم کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم او پی سی ڈبلیو کے درمیان 2013ء میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے سمجھوتا طے پایا تھا لیکن اس میں کلورین کو کیمیائی ہتھیار قرار نہیں دیا گیا تھا کیونکہ اس کو صنعتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

امریکا اور سلامتی کونسل کے دوسرے رکن ممالک بار بار شامی حکومت پر کیمیائی حملوں کے الزامات عاید کرتے چلے آرہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے فریقوں میں سے اسد حکومت کے تحت فوج کے سوا کسی گروپ کے پاس ہیلی کاپٹر نہیں ہیں اور ان ہیلی کاپٹروں ہی کو زہریلے کیمیائی مواد کو گرانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔