.

'ابھا مسجد میں خودکش حملہ یوسف سلیمان نے کیا'

ملزم بریدہ میں احتجاجی دھرنا دینے کے شبہ میں 45 دن گرفتار رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے سیکیورٹی ترجمان بریگیڈئر جنرل منصور الترکی نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' کو بتایا کہ ابھا میں ایمرجنسی سروسز کی مسجد میں خودکش دھماکا کرنے والا اکیس سالہ یوسف عبداللہ السلیمان 1435ھ میں 45 دن تک زیر حراست رہا اور تفتیش میں بے گناہ ثابت ہونے پر رہا کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ یوسف السلیمان کا نام سنہ 2012ء میں القصیم ریجن کے شہر بریدہ میں ہونے والے دھرنوں کے الزام میں گرفتار رہنے والوں کی فہرست میں شامل تھا۔

'العربیہ' نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے منصور الترکی نے بتایا السلیمان رمضان کے بعد سے منظر سے غائب تھا۔ ہم عسیر میں ایمرجنسی فورس مسجد میں دھماکا کرنے والے دیگر شرکاء اور سہولت کاروں کی تلاش میں ہیں۔

درایں اثنا سعودی وزارت داخلہ نے مملکت کے جنوبی ریجن میں ابھا کے مقام پر ایمرجنسی سروسز کی ایک مسجد میں ہلاکت خیز حملہ کرنے والے خودکش بمباری کی شناخت ظاہر کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ اکیس سالہ بمبار کا نام یوسف بن سلمان بن عبداللہ تھا، جس کی بزدلانہ حرکت نے پانچ سیکیورٹی اہلکاروں سمیت چھ زیر تربیت خدام الحجاج کی جان لی۔

اس سے قبل خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے شدت پسند تنظیم 'داعش' نے نام ظاہر کئے بغیر حملہ کرنے والے اس بمبار کی تصویر جاری کی تھی جس نے بارود سے بھری بیلٹ سے مسجد کے اندر دھماکا کیا۔

وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق: "تفتیش کے دوران مسجد کے اندر دہشت گردی کی مجرمانہ واردات کرنے والے بمبار کی شناخت سعودی شہری یوسف بن سلیمان عبداللہ السلیمان کے طور پر ہوئی ہے جو 1415ھ میں پیدا ہوئے۔

خودکش حملے میں 15 نمازی شہید ہوئے۔ شہدا میں پانچ کا تعلق سیکیورٹی فورس سے تھا جو ہیڈکوارٹرز میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ مرنے والے چھ افراد زیر تربیت خدام الحجاج تھے جبکہ چار ہلاک شدگان کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا جو ہیڈکوارٹرز مسجد میں خدمات سرانجام دیتے تھے۔