.

مساجد میں دہشت گردی سے حوصلے پست نہیں: سعودی عرب

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان کا شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ عسیر کے مقام پر جمعرات کے روز ایمرجنسی سروسز کی مسجد میں ہونے والا خودکش حملہ دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا بلکہ دہشت گردی کے خونی واقعات سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے غیر متزلزل عزم میں مزید شدت آئے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شہزادہ محمد بن نائف نے ان خیالات کا اظہار ہفتے کے روز جدہ میں ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ملک میں امن وامان کے قیام میں سرگرم مختلف اداروں کی قیادت نے شرکت کی۔

ولی عہد نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے جمعرات کے روز ابھا میں ایمرجنسی سروسز کی مسجد میں ہونے والے خود کش دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیتی بیان بھی پڑھ کر سنایا۔ شاہ سلمان نے اپنے بیان میں عسیر مسجد میں خود کش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔

خیال رہے کہ جمعرات کو عسیر کے مقام پر ایمرجنسی سروسز کی ایک مسجد میں ہونے والے مبینہ خود کش حملے میں 15 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 33 زخمی ہو گئے تھے۔

نائب ولی عہد نے کہا کہ عسیر میں فوج کی مسجد میں ہونے والا خودکش حملہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ہمارے عزم کو شکست نہیں دے سکتا۔ اس طرح کے واقعات سے ہم زیادہ قوت اور شدت کےساتھ دہشت گردی کی جنگ لڑیں گے۔

ولی عہد کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس میں ملک میں امن و امان کےقیام کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ ولی عہد نے تمام سیکیورٹی داروں کو ملک میں امن وامان کو یقینی بنانے کے لیے فول پروف انتظامات کی ہدایت کی اور کہا کہ خطے میں تیزی کے ساتھ بدلے حالات کے تناظرمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

اجلاس میں حج کی تیاریوں کے سلسلے میں کیے گئے سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔