.

لیبیا : درنہ میں خودکش بم دھماکے میں نو افراد ہلاک

مقامی جنگجو گروپ نے داعش کا شہر پر دوبارہ قبضے کے لیے حملہ پسپا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مشرقی شہر درنہ میں ایک خودکش کار بم حملے میں نو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

داعش نے سوموار کو آن لائن پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''درنہ شہر میں یہ خودکش بم حملہ ایک سوڈانی جنگجو ابو جعفر السودانی نے کیا ہے اور اس نے اپنی بارود سے بھری کار کو اتوار کی شب دھماکے سے اڑایا ہے۔اس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں''۔

درنہ سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو ٹیلی فون کے ذریعے بتایا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

واضح رہے کہ داعش مخالف اسلامی گروپوں نے جون میں درنہ کے مکینوں کی مدد سے اس گروپ کے جنگجوؤں کو لڑائی کے بعد نکال باہر کیا تھا۔مکین اپنے شہر میں داعش کے غیرملکی جنگجوؤں اور علماء کی آمد پر نالاں تھے۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے اتوار کو ایک مرتبہ پر درنہ میں داخل ہونے کی کوشش کی ہے مگر اس کے مخالف اسلامی گروپ ابو سالم شہید بریگیڈ نے ان کا حملہ پسپا کردیا ہے۔اس کے بعد ان کے درمیان شہر کے مشرقی دہانے پر بھاری ہتھیاروں سے لڑائی چھڑ گئی تھی۔

داعش کا کہنا ہے کہ ان کے مخالف ایک کمانڈر کو ہلاک کردیا گیا ہے اور لڑائی میں دیگر بھی بہت سے جنگجو ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں لیکن اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔

ایک مقامی فوجی ترجمان عبدالکریم صابرہ نے بتایا ہے کہ لیبیا کے مشرقی شہر طبرق میں قائم وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت کے تحت فضائیہ نے درنہ کے اس علاقے پر فضائی حملہ کیا ہے جس پر داعش کے جنگجو قبضہ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔مشرقی حکومت کے تحت فورسز درنہ کے نزدیک واقع علاقے میں گذشتہ ایک سال سے موجود ہیں لیکن انھوں نے اس شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔