.

نہر سویز سے حاصل ہونے والا منافع 'سُود' نہیں: افتاء کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکے دارالافتاء نے واضح کیا ہے کہ نہر سویز میں ہونے والی سرمایہ کاری اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والا منافع 'سود' میں شامل نہیں ہے۔ منافع کی رقم شرعا جائز اور حلال ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری افتاء کونسل کی جانب سے نہر سویز کے منافع کے بارے میں تازہ فتویٰ ایک سائل کے سوال کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ سوال میں کہا گیا تھا کہ بعض لوگ نہر سویز میں سرمایہ کاری کے نتیجے میں حاصل ہونے والی اضافی آمدنی کو 'سُود' قرار دیتے ہیں جب کہ بعض اسے سود نہیں سمجھتے۔ اس پر دارالافتاء نے اپنی متفقہ رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ نہر سویز میں سرمایہ کاری سرمایہ کاروں اور ریاست کے درمیان ایک معاہدہ ہے جسے قرض نہیں قرار دیا جاسکتا۔ سرمایہ کاری کے لیے بنکوں، اداروں، پبلک سوسائٹیز اور افراد اور کمپنیوں کےدرمیان رقم لگانا دور جدید کے تجارتی معاہدوں میں شامل ہے جس پر سود نہیں۔ اس قسم کے تمام معاہدے سود سے مبریٰ ہوتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نہر سویز میں سرمایہ کاری دراصل ملک کی تعمیرو ترقی کا عمل آگے بڑھانے اور معاشی زبوں حالی کو ختم کرنے میں ریاست کی مدد کرنا ہے۔ اس لیے اس میں ریاست کو حاصل ہونے والی آمدن پر سود لاگو نہیں ہوتا۔

دارالافتاء نے عوام الناس پر واضح کیا ہے کہ وہ متنازعہ فتاویٰ پرتوجہ نہ دیں کیونکہ بعض ریاست دشمن عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لیے احکام شرع کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ افتاء کونسل کی جانب سے علماء سے متازع فتاویٰ جاری کرنے کو بھی خطرناک رحجان قرار دیتے ہوئے فتوے بازی سے اجتناب کی تاکید کی ہے۔