.

ایرانی وزیرخارجہ کا دورۂ ترکی اچانک ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کا دورۂ ترکی اچانک ملتوی کردیا گیا ہے۔ وہ آج منگل کو انقرہ پہنچنے والے تھے اور انھوں نے ترک قیادت سے بات چیت کرنا تھی۔

ترک وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ پروگرام میں تبدیلی کے پیش نظر ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ ملتوی کیا گیا ہے لیکن ان صاحب نے اس کا کوئی اور سبب نہیں بتایا ہے۔

ترکی کی جانب سے شیڈول مسائل کو دورے کے التوا کی وجہ بتایا گیا ہے جبکہ بعض میڈیا ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جواد ظریف کا دورہ ان کے ترک حزب اختلاف کے روزنامے ''جمہوریت'' میں ایک مضمون کی اشاعت کے ردعمل میں مؤخر کیا گیا ہے۔

آج شائع شدہ اس مضمون میں انھوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکا کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ترکی اور امریکا نیٹو اتحادی ہیں۔انھوں نے گذشتہ ماہ شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف جنگ میں مشترکہ اقدامات سے اتفاق کیا تھا اور ترکی نے جنوب میں واقع اپنے انچرلیک ائیربیس کو داعش کے خلاف فضائی حملوں کے لیے امریکا کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

شامی تنازعے کے معاملے میں ترکی اور ایران ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہیں۔ایران شامی صدر بشارالاسد کا اس وقت سب سے بڑا مؤید ہے۔ وہ ان کی کھلم کھلا مالی اور عسکری امداد کررہا ہے جبکہ ترکی ان کا شدید مخالف ہے اور وہ گذشتہ ساڑھے چار سال سے ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتا چلا آرہا ہے۔ترکی اور امریکا اعتدال پسند شامی حزب اختلاف کے جنگجوؤں کو عسکری تربیت بھی دے رہے ہیں۔