.

جنوبی یمن میں لڑائی کے دوران دو اعلیٰ عہدے دار زخمی

تعز اور ایب میں یمنی فورسز اور حوثی ملیشیا کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی صوبے ابین میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز اور حوثی ملیشیا کے درمیان جھڑپوں میں پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر محمد الشدادی اور سابق وزیرداخلہ حسین بن عرب زخمی ہوگئے ہیں۔

یمنی حکومت کے ایک عہدے دار نے بتایا ہے کہ محمد الشدادی اور سابق وزیرداخلہ جنوبی شہر لودر میں حوثی ملیشیا کے خلاف جنوبی مزاحمت کے جنگجوؤں کی قیادت کررہے تھے اور اس دوران وہ زخمی ہوئے ہیں۔صدر عبد ربہ منصور ہادی کی طرح ان دونوں سیاسی رہ نماؤں کا تعلق بھی صوبہ ابین سے ہے۔

درایں اثناء یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز اور وسطی صوبے ایب میں حوثی ملیشیا اور سرکاری فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔صدر ہادی کی وفادار فوج اور جنوبی مزاحمت کے جنگجو تین جنوبی صوبوں پر قبضے کے بعد اب وسطی شہروں کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔

صدر ہادی کی وفادار فوج کے عہدے داروں نے سوموار کو رات گئے بتایا تھا کہ ان کی فورسز نے حوثی ملیشیا کو شکست دینے کے بعد لودرشہر پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ اب صوبے ابین کو مکمل طور پر حوثی ملیشیا اور ان کے اتحادیوں سے آزاد کرا لیا گیا ہے۔

وفادار فورسز نے اتوار کو ابین کے صوبائی دارالحکومت زنجبار پر قبضہ کر لیا تھا۔عدن میں ایک میڈیکل ذریعے نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ابین میں گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران لڑائی میں جنوبی مزاحمت سے تعلق رکھنے والے سولہ جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔اس ذریعے نے مزید بتایا ہے کہ ان میں سے بیشتر حوثی ملیشیا کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

صدر منصور ہادی کی وفادار فوج اور اس کے اتحادی جنوبی مزاحمتی تحریک سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے جولائی کے وسط میں جنوبی شہر عدن پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے حوثی ملیشیا اور ان کے اتحادیوں کو مار بھگایا تھا۔انھوں نے چار اگست کو صوبہ لحج کے دارالحکومت حوتا پر قبضہ کیا تھا اور پھر ابین کی جانب پیش قدمی شروع کی تھی۔اس دوران انھیں حوثی باغیوں کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کی فضائی مدد بھی حاصل رہی ہے۔

تاہم ابھی تک دارالحکومت صنعا اور ملک کے کم وبیش تمام شمالی علاقوں پر حوثی باغیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی عبدالہک صالح کے وفادار فوجی یونٹوں کا قبضہ برقرار ہے۔ان علاقوں میں حوثیوں کا مضبوط گڑھ صعدہ بھی شامل ہے جس کی سرحد سعودی عرب کے ساتھ ملتی ہے۔